بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مہر کو ایک تولہ سونا کیساتھ محدود کرنا


سوال

اگر كسی قوم  کے لوگ مہرکے بارے میں  اس بات پر اتفاق کر لیں کہ مہر ایک تولہ سونا سے زیادہ مقرر نہ ہوگا، تو کیایہ جائز ہے  يا نہيں؟ حالانکہ تفسیر ابن کثیر میں عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ  کچھ اس طرح موجود ہےکہ امیر المومنین نے حکم کیا کہ مہر چار سو درہم سے زائد نہ ہوگا، پھر قریش کی ایک عورت نے﴿وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا﴾ [النساء: 20]   کی طرف توجہ دلائی  تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنےقول سے رجوع کیا۔

جواب

واضح رہے کہ مہر کی کم از کم مقدار دس درہم ہے اور زیادہ کی کوئی تحدید نہیں، لہذا جتنی مقدار پر بھی میاں  بیوی راضی ہو جائيں اس کو مہر مقرركيا جا سكتاہے۔

لہذاصورت مسؤلہ کے مطابق اگر کسی قوم نے اس بات پر اتفاق کیا ہو کہ ایک تولہ سونا سے زیادہ مہر مقرر نہیں کریں گے، تو اگر اس کا مقصد تغیر حکم شرعی نہ ہو، بلکہ صرف لوگوں کو مشورہ دینا ہو یا انتظامی نوعیت کا فیصلہ ہو، تاکہ لوگوں کو نکاح کرنے میں آسانی ہو، تو شرعًا اس کی گنجائش ہے، تاہم اگر اس کا مقصد شرعی پابندی لگانا ہو تو کسی کو اس کا اختیا ر حاصل نہیں، جیسا کہ سوال میں مذکورہ واقعہ سے واضح ہے.

 

حدثنا أبو خيثمة، حدثنا يعقوب بن إبراهيم، حدثنا أبي، عن ابن إسحاق قال: حدثني محمد بن عبد الرحمن، عن مجالد بن سعيد، عن الشعبي، عن مسروق قال: ركب عمر بن الخطاب منبر رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال: أيها الناس ما إكثاركم في صداق النساء وقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه، وإنما الصدقات فيما بينهم أربع مائة درهم فما دون ذلك، فلو كان الإكثار في ذلك تقوى عند الله عز وجل أو مكرمة لم تسبقوهم فلا أعرفن ما زاد رجل صداق على أربع مائة درهم.

قال: ثم نزل فاعترضته امرأة من قريش فقالت: يا أمير المؤمنين نهيت الناس أن يزيدوا النساء في صدقاتهن على أربع مائة درهم؟ قال: نعم.قالت: أما سمعت ما أنزل الله عز وجل في القرآن؟ فقال: فأنى ذلك؟ فقال: أما سمعت الله عز وجل يقول: {وآتيتم إحداهن قنطارا فلا تأخذوا منه شيئا أتأخذونه بهتانا وإثما مبينا} [النساء: 20] .فقال: اللهم غفرانك.كل الناس أفقه من عمر.

قال: ثم رجع فركب المنبر فقال: أيها الناس إني قد نهيتكم أن تزيدوا النساء في صدقاتهم على أربعمائة درهم فمن شاء أن يعطي من ماله ما أحب. قال أبو يعلى: وأظنه قال: فمن طابت نفسه فليفعل. (المقصد العلي في زوائد أبي يعلى الموصلي لنورالدين الهيثمي، ج:2،ص:335)

وأقل المهر عشرة دراهم۔ (الهداية في شرح بداية المبتدي ،ج:3 ، ص:53)

وقد وقع الإجماع على أن المهر لا حد لأكثره بحيث تصير الزيادة على ذلك الحد باطلة للآية. (نيل الأوطار شرح منتقى الأخبار، ج: 6، ص: 201)


فتویٰ نمبر : 7315/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں