بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بچے نکلوانےکے لیےمرغی اجارہ پر لے کربچے تقسیم کرنا


سوال

ہمارے علاقوں میں لوگ مرغی کو انڈے رکھ کر بچے نکلواتے ہیں، اس کی صورت یہ ہوتی ہےکہ کسی کے پاس انڈے تو ہوتے ہیں مگر مرغی نہیں ہوتی، تووہ کسی سے مرغی لے کرانڈوں پر بٹھا کربچے نکلواتے ہیں، اور جب بچے بڑے ہوتے ہیں توآپس میں آدھا آدھا تقسیم کرتے ہیں،اس میں کھبی یہ صورت بھی آتی ہے کہ سارے انڈے خراب ہوتے ہیں، ایک بچہ بھی نہیں نکلتا، ایسی صورت میں باہم کوئی نزاع نہیں ہوتا، بس مرغی والے کوصرف مرغی واپس کی جاتی ہے، اس کے علاوہ اس کا کوئی اور مطالبہ نہیں ہوتا، کیا مذکورہ بالا طریقے سے بچے نکلوا کرمقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ نے ہراس معاملہ کو ممنوع قراردیا ہے جس میں اجرت مجہول ہویا اجیر کی اجرت ضائع ہونے کا خطرہ ہو،عقد اجارہ کے درست ہونے کےلیےاجرت(معاوضہ)، مدت(وقت )،اورمنفعت(فائدہ یا کام )کا واضح اور متعین ہونا ضروری ہے، اگر ان تین چیزوں میں سے کوئی ایک چیز بھی مجہول ہو، تواجارہ شرعا فاسد ہوجاتاہے، کیونکہ جہالت کی صورت میں باہم جھگڑے کا اندیشہ پایا جاتا ہے۔

صورت مسئولہ میں چونکہ مرغی کے بچے پیداہونے اور نہ ہونے کا کوئی یقینی علم نہیں، اس لیے اجرت مجہول ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ اجارہ فاسدہ کے حکم میں داخل ہے جوکہ جائزنہیں۔

 

ولا تصح حتى تكون المنافع معلومة، والأجرة معلومة لما روينا، ولأن الجهالة في المعقود عليه وبدله تفضي إلى المنازعة كجهالة الثمن والمثمن في البيع. (الهداية، كتاب الإجارات، ج:3، ص:230)

وشرطها أن تكون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، كتاب الإجارات، ج:6، ص:77)

دفع ‌بقرة إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة. (الفتاوى الهندية، كتاب الاجارۃ، ج:4، ص:481)

كذا ‌لو ‌دفع ‌الدجاج على أن يكون البيض بينهما أو بزرالفيلق على أن يكون الإبريسم بينهما لا يجوز والحادث كله لصاحب الدجاج والبزر. (الفتاوى الهندية، كتاب الاجارۃ، ج:4، ص:481)


فتویٰ نمبر : 3974/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں