بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
مورتی رکھنے کے لیے بکس بنانا
سوال
میں اور میرے دیگر مسلم ساتھی لکڑی کا کام کرتے ہیں ، یعنی گھروں ، بنگلوں اور ہسپتالوں وغیرہ میں لکڑی کی بہت ساری وہ تمام چیزیں بناتے ہیں جو ایک بڑھئی کا کام ہوتا ہے ، اس میں بعض مرتبہ جب کسی غیر مسلم کے یہاں ہم کام کررہے ہوتے ہیں ،تو وہ ہم سے لکڑی کا ایک چھوٹا سا بکس مورتی رکھنے کے لیے بنوا لیتا ہے ، اگر ہم منع کریں تو ہمارے کام کےبگڑنے کا خطرہ ہوتا ہے یعنی اس طرح اگر ہم منع کریں گے تو یہ ڈر ہے کہ ہمیں کوئی اپنے یہاں کام پر نہیں بلائے گا ، تو اس صورت میں کیا ہم مورتی رکھنے کے لیے وہ لکڑی کا بکس خود یا کسی اورسے بنوا سکتے ہیں یا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ جس چیز کی عین کے ساتھ معصیت قائم نہ ہو ،بلکہ درمیان میں مباشرکافعل موجود ہو،تو ایسی چیزکے بنانے اور بیچنےکی شریعت میں گنجائش ہوتی ہے،چنانچہ جو اس کو خریدکرمعصیت میں استعمال کرے گاگناہ کاوبال ا سی کے ذمے ہوگا ، لیکن اگر کسی چیز کی عین کے ساتھ معصیت قائم ہو مثلا:شراب ،مورتی وغیرہ،تو اس کے بیچنے اور بنانے کی شرعا گنجائش نہیں ۔
لہذا صورت مسئولہ ميں مورتی کے لئے جو بکس بنایا جاتاہے ،چونکہ اس کی عین کے ساتھ کوئی معصیت قائم نہیں ہوتی ،بلکہ ممکن ہے کہ یہ شخص ہدایت پاکر آئندہ یہ بکس کسی دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کرے، اس لیے ایسے بکس کے بنانے کی گنجائش ہے اور اس کے بنانے کی اجرت حرام نہ ہوگی ۔
ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها فلا بأس به؛ إذ ليس في نفس العمل معصية. (المحيط البرهاني، كتاب الاستحسان والكراهية،فصل في معاملة أهل الذمة، ج:6،ص:103)
أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريما وإلا فتنزيها. فليحفظ توفيقا. (ردالمحتار علی الدرالمختار ،کتاب الحظر والإباحة،فصل في البيع، ج: 9،ص:562)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں