بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

پلازہ بننے سے پہلے اس میں دفتر خریدنا


سوال

میں نے پشاور میں ایک کمپنی کے ساتھ انوسمنٹ کرنی ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ یہ کمپنی مختلف جگہوں پر بڑے پلازے بناتی ہے پھر بعض لوگ اس پلازے میں سکوئر فٹ کے حساب سے دکان خریدتے ہیں، اور بعض لوگ دفتر اور بعض لوگ فلیٹس خریدتے ہیں اس کی  پیسوں کی ادائیگی بعض لوگ نقد کرتے ہیں اور بعض لوگ قسطوں پر ۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ میں نے جس پلازے میں انوسمنٹ کرنی ہے، وہ ابھی زیر تعمیر ہے، مکمل نہیں ہے تو میں نے اس پلازے میں ایک دفتر خریدنی ہے جو 175 سکوئر فٹ پر مشتمل ہے، لیکن ابھی اس کا وجود نہیں ہے، تقریبا تین سال کے بعد تیار ہوجائے گا ،تو یہ  کمپنی والے کہتے ہیں کہ: اگر آپ نے یک مشت پوری قیمت ادا کی تو ہم آپ کو ماہانہ اس کا منافع دیں گے، یعنی اگر آج خریدا تو آنے والے مہینے سے آپ کا پرافٹ شروع ہوجائے گا میں ان سےدریافت کیا کہ پلازہ تو ابھی بنا ہی نہیں تو یہ پرافٹ کس چیز کی ہے ،تو انہوں نے کہا کہ: ہماری کمپنی کے مختلف جگہوں میں پلازے ہیں یہ پیسے ہم وہاں خرچ کرتے ہیں ان سےجو نفع آتا ہے وہ انوسٹر کےدرمیان ان کےپیسوں کے مطابق تقسیم کرتے ہیں، مزید دریافت کرنےپر انہوں نے کہا کہ :آپ شروع میں ہمارے شیئر ہولڈر شمار ہوں گے جتنی رقم آپ نے جمع کی اتنے ہی آپ کے شیئرز ہوں گے، تو جب تک یہ پلازہ مکمل نہیں اس وقت تک آپ ہمارا شیئر ہولڈر ہوں گے، اس شیئرز کے منافع آپ کو ہر مہینے ملیں گے اور یہ منافع متعین نہیں ہوتے جتنا نفع ہوجائے اس کو اپنے شیئر ہولڈرز پر ان کی سرمایہ کاری کے حساب سے تقسیم کرتے ہیں یعنی کبھی کم کبھی زیادہ، لہذا کمپنی والے نے مزید کہا کہ جب یہ پلازہ مکمل ہوجائے تو اس وقت آپ کو دفتر کا قبضہ دیا جائے گااور پہلا معاہدہ ختم ہوکر ایک نیا کرایہ داری کا معاہدہ ہوگا جس میں آپ کو دفتر کا کرایہ بھی متعین کیا جائے گااس کے بعد آپ کو دفتر کا کرایہ ملے گا خلاصہ یہ کہ شروع میں کسٹمر کو شیئر ہولڈر بناتے ہیں تا کہ اس کو سرمایہ کاری کے منافع ملیں اور ساتھ میں یہ بتایا جاتا ہے کہ پلازہ میں آپ  کا 175 سکوئر فٹ دفتر ہے جو ایک وعدہ ہوتا ہے، جو مکمل ہونے کےبعد ایک نئے معاہدے کے ساتھ آپ کو قبضہ بھی دیا جائے گاجو مالکانہ حقوق کے بنیاد پر رجسٹری کرکے حوالہ کیا جاتا ہے،پھر اگر آپ خود چاہے اس کو اپنے استعمال میں لاسکتے ہے اگر چاہے تو کمپنی بھی اس کو کرایہ پر دے سکتی ہے،اس کا متعین کرایہ ہر ماہ آپ کو ملے گا دوبارہ فروخت کرنے میں انوسٹر خود مختار  ہوتا ہے ،چاہے خود آگے اپنی مرضی سے کسی پر بھی فروخت کرے اور چاہے تو کمپنی پر  بھی فروخت کرسکتا ہے، اس میں کوئی پابندی نہیں۔کیااس طرح معاملہ شرعا درست ہے؟اگر شرعا کوئی قباحت ہوتوشرعی متبادل صورت بھی بیان فرمائیں، مہربانی فرما کر تفصیل کے ساتھ وضاحت فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی شخص کسی سے مخصوص اوصاف کے مطابق کوئی چیز بنانے کا مطالبہ کرے اس طور پر کہ عین اور عمل دونوں صانع کی طرف سےہو اس کو استصناع کہتے ہیں ،استصناع میں جب تک شے مصنوع (آرڈر کی گئی چیز) مستصنع (گاہک) کے قبضے میں نہ آجائے اس کےلیے نہ اس کو آگے فروخت کرنا جائز ہے اور نہ ہی اس کو اجارہ (کرایہ داری) پر دے کر منافع حاصل کرنا جائز ہے نیز واضح رہے کہ دو معاملات کو ایک عقد میں جمع کرنا جائز نہیں ،حدیث شریف میں اس سے منع کیا گیا ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق پلازہ بننے سے پہلے مخصو ص اوصاف کے حامل دفتر بنانے کی بکنگ کرکے پیسے دینا جائز ہے لیکن قبل از وقت اس دفتر کا کرایہ وصول کرنا جائز نہیں، کیونکہ جو چیز ابھی تک موجود نہیں ،تو نہ اس کو آصگے بیچنا جائز ہے اور ہی کرایہ پر دینا  جائز ہے،نیز کمپنی کا سرمایہ دار کے ساتھ چونکہ دکان کی خریداری کا معاملہ طے ہوتا ہے، لہذا اس معاملے کے اندر کمپنی کےساتھ  شیئرز کی بنیاد پر شرکت کامعاملہ کرنا اور دونوں کو خلط ملط کرنا شرعا جائز نہیں ہے۔

 

والاستصناع أن تكون العين والعمل من الصانع فأما إذا كانت العين من المستصنع لا من الصانع فإنه يكون إجارة ولا يكون استصناعا كذا في المحيط.وفي تجنيس خواهر زاده ‌الاستصناع أن يشتري منه شيئا ويستصنع البائع فيه مثل أن يشتري الأديم ويأمر البائع أن يتخذ له خفا يصف له قدره وعمله فهذا جائز استحسانا وكذلك كل ما جرت العادة باستصناعه مثل آنية الزجاج والنحاس والخشب والقدر وغير ذلك من القلنسوة وأشباهها إذا بين صفته وقدره كذا في التتارخانية. (الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة، الباب الحادي والثلاثون في ‌الاستصناع والاستئجار على العمل، ج: 4، ص: 517)

قال: (ومن باع عبده من رجلا بثمن، على أن يبيعه الآخر عبد بثمن ذكراه: لم يجز البيع في واحد من بيعتي العبدين المذكورين).وذلك "لنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة". (شرح مختصر الطحاوي للجصاص، كتاب البيوع، باب الربا، ج: 3، ص: 99)

(المادة 388) إذا قال شخص لأحد من أهل الصنائع: اصنع لي الشيء الفلاني بكذا قرشا وقبل الصانع ذلك انعقد البيع استصناعا. مثلا: لو أرى المشتري رجله لخفاف وقال له اصنع لي زوجي خف من نوع السختيان الفلاني بكذا قرشا وقبل البائع ، أو تقاول مع نجار على أن يصنع له زورقا ، أو سفينة وبين له طولها وعرضها وأوصافها اللازمة وقبل النجار انعقد الاستصناع. كذلك لو تقاول مع صاحب معمل أن يصنع له كذا بندقية ، كل واحدة بكذا قرشا وبين الطول والحجم وسائر أوصافها...(المادة 392) وإذا انعقد الاستصناع ; فليس لأحد العاقدين الرجوع وإذا لم يكن المصنوع على الأوصاف المطلوبة المبينة كان المستصنع مخيرا. (مجلة الأحكام العدلية، ‌‌الباب السابع: في بيان أنواع البيع وأحكامه، الفصل الرابع في بيان الاستصناع، ص: 76)


فتویٰ نمبر : 3961/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں