بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
مخلوط اداروں میں تعلیم حاصل کرنا
سوال
آج کل اکثر سکول ،کالجوں اور یونیورسٹیوں لڑکے اورلڑکیاں ایک ہی کلاس میں اکھٹے پڑھتے ہیں جس کو "co-education"سے موسوم کیاجاتا ہے،ان میں پردے کا خاص اہتمام نہیں ہوتا،تو ایسے ماحول میں تعلیم حاصل کرنا کیسا ہے ،جبکہ اس کا بہتر متبادل بھی نہ ہو اور اگر ہو بھی تو وہاں وہی کورس نہیں پڑھایا جاتا ۔
جواب
واضح رہےکہ اسلام نے اجنبی عورتوں کو دیکھنے ،ان کے ساتھ غیر ضروری ملاقات کرنےاورمیل جول رکھنے سے منع فرمایا ہے،نیز تعلیم حاصل کرنا فی نفسہ جائز اور مباح ہے،لیکن تعلیم کے حصول میں شرعی امور کی رعایت از حد ضروری ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق طالب علموں کےلیے ضروری ہےکہ ایسےتعلیمی اداروں کا انتخاب کریں جہاں مرد وعورتوں کا اختلاط نہ لیکن اگر ایسا ادارہ میسر نہ ہواور مخلوط تعلیمی ادارے میں ہی تعلیم حاصل کرنا ناگزیر ہو تو درج ذیل امور کا لحاظ ضروری ہے:
1۔ کسی بھی اجنبی عورت خواہ ٹیچر ہو یا طالبہ، کے ساتھ اکیلے کمرے میں نہ رکے اور نہ ہی اکیلے ملاقات کرے۔
2۔ کسی نامحرم خاتون کے چہرے کی طرف نگاہ نہ کی جائے۔
3۔ صرف لڑکوں کے ساتھ پڑھائی سے متعلق بات چیت کی جائے۔
4۔ مجبوراً کبھی کسی غیر محرم عورت سے بات کرنے کی ضرورت پیش آجائےتو بوقتِ ضرورت بقدرِ ضرورت بات کرنا جائز ہے، بلاضرورت جائز نہیں،نیز ہنسی مزاح کرنے یا اس کا جواب دینے کی کوئی گنجائش نہیں ،بلکہ سخت گناہ ہے۔
اور اگرکسی ادارے کے بارے میں معلوم ہو کہ اُس میں ماحول بہت آزاد ہے جس کی وجہ سےگناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ غالب ہوتو وہاں سےہٹ جانا لازم ہے۔
قال الله تبارك وتعالى: ﴿قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ﴾ [النور: 30]
وقال تعالى: ﴿وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ﴾ [الأحزاب: 53]
وقال تعالى: ﴿يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ ﴾ [غافر: 19]
عن أنس، رضي الله تعالى عنه، قال: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في جنازة، فرأى نسوة فقال: أتحملنه؟ قلن: لا. قال: أتدفنه؟ قلن: لا. قال: فارجعن مأزورات غير مأجورات) . لأن الرجال أقوى لذلك والنساء ضعيفات ومظنة للانكشاف غالبا، خصوصا إذا باشرن الحمل، ولأنهن إذا حملنها مع وجود الرجال لوقع اختلاطهن بالرجال، وهو محل الفتنة ومظنة الفساد.(عمدة القاري شرح صحيح البخاري، كتاب الجنائز، باب حمل الرجال الجنازة دون النساء، ج: 8، ص: 111)
وإنما فضل آخر صفوف النساء الحاضرات مع الرجال لبعدهن من مخالطة الرجال ورؤيتهم وتعلق القلب بهم عند رؤية حركاتهم وسماع. (شرح النووي على مسلم، كتاب الصلاة، باب تسوية الصفوف وإقامتها، ج: 4، ص: 159)
قال: وينبغي للقاضي أن يقدم النساء على حدة والرجال على حدة؛ لأن الناس يزدحمون في مجلسه، وفي اختلاط النساء مع الرجال عند الزحمة من الفتنة والقبح ما لا يخفى. (المبسوط للسرخسي، كتاب أدب القاضي، ج: 16، ص: 80)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں