بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
تین طلاقوں کو معلق کرنے کی ایک صورت
سوال
اگرکسی شخص کا دوسرے آدمی پرقرض ہو لیکن مقروض نے قرض خواہ کو کہا کہ میں آپ کا قرض ادا کرچکا ہوں اور قرض خواہ کہتا ہے کہ آپ نے میرے قرض کو ادا نہیں کیا ہے،اگرآپ نے ادا کیا ہو تو میری بیوی کو تین طلاق ہو، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ مقروض نے قرض ادا کیا ہے لیکن قرض خواہ کہتا ہے کہ میرا طلاق کا ارادہ نہیں تھا بلکہ اپنی بات کی تاکید مقصود تھی اسی طرح مجھے سو فیصد یقین تھا کہ مقروض نے میرا قرض ادا نہیں کیا ہےاب تین طلاق واقع ہوجائیں گی یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگرکوئی شخص اپنی بیوی کی طلاق کوماضی میں کسی کام کے ہونے یا نہ ہونے پرمعلق کرےاوراس کا گمان ہو کہ وہ اس میں سچا ہے لیکن حقیقت میں وہ اس میں جھوٹا ہو،توشرط پائے جانے کی وجہ سےطلاق واقع ہوجاتی ہے۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق اگرکوئی شخص ان الفاظ کے ساتھ قسم کھائے کہ" اگرآپ نے میرے قرض کوادا کیا ہوتومیری بیوی کوتین طلاق ہو"اورکہنے والا اس وقت یہ سمجھتا ہوکہ اسےقرض نہیں ملا ہے، لیکن بعد میں پتہ چلے کہ اس نے قرض وصول کیا ہے،تواس صورت میں شرط پائے جانے کی وجہ سےاس کی بیوی تین طلاقوں کے ساتھ مطلقہ ہوگی،کیونکہ تعلیق نفس الامرمیں ادائیگی سے ہے،اس کے علم سے نہیں۔
صرحوا في الأيمان بأنه لوحلف على ماض أوحال يظن نفسه صادقالايؤاخذ فيهاإلافي ثلاث:طلاق وعتاق ونذر. (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الطلاق، ج:4،ص:628)
رجل حلّفه اللصوص بثلاث تطليقات أنه ليس معه دراهم غيرالذي أخذوا منه فحلف؛فإن كان معه الأقل من ثلاثة دراهم لايحنث وإن كان معه ثلاثة أوأكثر،فإن كانت اليمين بالطلاق وقع الطلاق، وإن لم يعلم. (الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق، ج:1،ص:505)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں