بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سسر کے انتقا ل کےبعد بیوی کی سوتیلی ماں سے نکاح کرنا


سوال

ایک شخص ہے اس کی بیوی زندہ ہے، اور بیوی کے والد (سسر) کا انتقال ہو چکا ہے۔کیا داماد اپنے مرحوم سُسر کی دوسری بیوی (جو اس کی بیوی کی ماں نہیں ہے) سے نکاح کر سکتا ہے؟

جواب

جاننا چاہیے کہ نکاح میں ایسی دوعورتوں کو جمع کرنا حرام ہے کہ اگر ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی مرد فرض کرلیاجائے توان دونوں کا آپس میں نکاح جائز نہ ہواور اگر ان کا آپس میں نکاح جائز ہو توان دونوں کے ساتھ نکاح کرنے میں کوئی ممانعت نہیں۔

صورت مسؤلہ میں داماد کا اپنے سسر کے انتقال کےبعد اس کی دوسری بیوی (جو اس کی ساس نہ ہو )کی عدت گزرجانے کے بعد اس سے   نکاح کرنا شرعاً جائز ہے۔

 

ولا يجمع بين امرأتين لو كانت إحداهما رجلا لم يجز له أن يتزوج بالأخرى۔۔۔ولا بأس بأن يجمع بين امرأة وبنت زوج كان لها من قبل.(الهداية في شرح بداية المبتدي،ج:1،ص:187)

(فجاز ‌الجمع ‌بين ‌امرأة ‌وبنت ‌زوجها) أو امرأة ابنها أو أمة ثم سيدتها لأنه لو فرضت المرأة أو امرأة الابن أو السيدة ذكرا لم يحرم بخلاف عكسه.۔۔۔ (قوله: لم يحرم) أي التزوج في الصور الثلاث؛ لأن الذكر المفروض في الأولى يصير متزوجا بنت الزوج وهي بنت رجل أجنبي  (وقوله:بخلاف عكسه) هو ما إذا فرضت بنت الزوج أو أم الزوج أو الأمة ذكرا حيث تحرم الأخرى لأنه في الأولى يصير ابن الزوج  فلا تحل له موطوءة أبيه، وفي الثانية يصير أبا الزوج، فلا تحل له امرأة ابنه وفي الثالثة يصير عبدا فلا تحل له سيدته.(رد المحتارعلى الدر المختار،ج:3،ص:39)


فتویٰ نمبر : 7294/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں