بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
ماں، ایک بیوہ اور دو بھائیوں کے مابین تقسیم میراث اور مرحوم کو ادارے کی طرف سے ملنے والی مراعات کا حکم
سوال
1۔ مسمٰی افتخارحسین کا انتقال ہوچکا ہے، اس کے ورثا میں ماں(حرمت بی بی )، ایک بیوہ( فوزیہ) اور دو بھائی( انورحسین اور منورحسین ) موجود ہیں، اب مرحوم کا ترکہ مذکور بالا ورثا میں کس حساب سے تقسیم کیا جائے گا؟
2۔ نیز مرحوم( افتخار حسین) WWF محکمے میں پرائیویٹ ملازم تھا، مرحوم کا نکاح بھی ہوچکا تھا، لیکن اب تک رخصتی نہیں ہوئی تھی، مرحوم نے اپنی زندگی میں دفتر کوتحریری طور پر ہدایت دی تھی، کہ اگر اسے کچھ ہوجائے تو بعد میں ملنے والی تمام رقم اس کی والدہ کو ادا کی جائے۔ اسی تحریر کے مطابق WWF کے ادارے نے افتخار حسین کے انتقال کے بعد اس کی والدہ(حرمت بی بی) کے نام 5 لاکھ روپے بھیج کر اسے دے دیے، والدہ نے اپنی طرف سے اس رقم میں سے تین لاکھ روپے مرحوم کی بیوہ( فوزیہ) کو دے دیے، کچھ عرصہ بعد WWFوالوں نے مزید 25 لاکھ روپے مرحوم کی والدہ(حرمت بی بی) کے نام بھیج کر اسے دے دیے، اب مرحوم کی بیوہ(فوزیہ) تمام رقم کی حق دار ہونے کا مطالبہ کررہی ہے، کیا شرعاً بیوہ کو اس تمام رقم کے مطالبے کا حق حاصل ہے یا نہیں؟
جواب
1۔ میـــ(افتخارحسین)ــــ(24)ــــــــــــــــــــــــــــــــــت
حرمت بی بی فوزیہ انورحسین منورحسین
4 6 7 7
بشرط صدق وثبوت اگر مرحوم(افتخارحسین) کا مذکورہ بالا ورثا کے علاوہ کوئی اور زندہ وارث موجود نہ ہو، تو بعد از ادائے حقوق متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ چوبیس(24) حصوں میں تقسیم ہوکر ماں(حرمت بی بی) کوچار(4/24) حصے، بیوہ(فوزیہ) کو چھ(6/24) حصے، جب کہ دو بھائیوں (انورحسین اور منورحسین) میں سے ہرایک کوسات سات(7/24) حصے ملیں گے۔
2۔ شریعت ِ مطہرہ کی رو سےمیراث کے احکامات میت کے ترکہ میں جاری ہوتے ہیں، یعنی جو اموال بوقتِ وفات اس کی ملکیت میں موجود ہوں وہ ورثا میں بقدرِ حصص میراث میں تقسیم کیے جائیں گے، اور جو مال بوقتِ وفات اس کی ملکیت میں نہ ہوبلکہ اس کی وفات کے بعدکسی فنڈ وغیرہ کی صورت میں ملا ہو، تو وہ ترکہ میں شمار نہ ہوگا، بلکہ وہ رقم عطیہ، امداد اور تبرع ہوتا ہے، اس لیےدینے والے ادارے کی طرف سےمرحوم کے جن لواحقین کو وہ رقم ملے گا وہی اس کے مالک ہوں گے۔
صورتِ مسئولہ میں متعلقہ محکمے کی جانب سے ملنے والے فنڈ میں سے جو رقم مرحوم کی تنخواہوں سے جمع شدہ ہو، وہ ترکہ شمار ہوگی، اور شرعی حصص کے مطابق تمام ورثا کے مابین تقسیم کی جائے گی۔ اور جو رقم محکمے کی طرف سے بطورِعطیہ، تبرع یا امداد کے طور پر دی گئی ہو، تو وہ جس کے نام جاری ہوئی ہو وہی اس کا مالک متصور ہوگا۔
قال الله تعالى: ﴿فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ﴾ (النساء: 11)
وقال تعالى: ﴿وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ﴾ (النساء: 12)
عصبة بنفسه وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى وهم أربعة أصناف: جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده، كذا في التبيين فأقرب العصبات الابن ثم ابن الابن وإن سفل ثم الأب ثم الجد أب الأب وإن علا، ثم الأخ لأب وأم، ثم الأخ لأب. (الفتاوى الهندية، كتاب الفرائض، الباب الثالث في العصبات، ج:6، ص:451)
والإرث في اللغة البقاء وفي الشرع انتقال مال الغير إلى الغير على سبيل الخلافة، كذا في خزانة المفتين. (الفتاوى الهندية، كتاب الفرائض، الباب فی تعريف الفرائض، ج:6، ص:447)
العطاء لا يورث. (الأشباه والنظائر، الفن الثاني في الفوائد، كتاب الفرائض، ص:256)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں