بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مشترکہ کمائی میں زکوۃ کا حکم


سوال

چند بھائیوں کامجموعی مال نصاب زکوۃ کو پہنچتی ہے،اگر اسےتقسیم کیا جائے تو ہر ایک بھائی کی علیحدہ ملکیت زکوۃ کے نصاب کو نہیں پہنچتی ،ایسی حالت میں زکوۃ کی ادائیگی کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ زکوۃ کے فرض ہونے کے لیے صاحب نصاب بننے میں ہر شخص کی انفرادی ملکیت کا اعتبار ہوتا ہے۔لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر بھائیوں کا مشترکہ مال نصاب کے برابر ہو لیکن ہر بھائی کا حصہ الگ الگ حصہ زکوۃ کے نصاب تک نہیں پہنچتا تو ایسی صورت میں کسی بھی بھائی پر زکوۃ واجب نہیں ۔

 

(قوله: في نصاب مشترك) ‌المراد ‌أن ‌يكون ‌بلوغه ‌النصاب ‌بسبب ‌الاشتراك وضم أحد المالين إلى الآخر بحيث لا يبلغ مال كل منها بانفراده نصابا۔(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الزكاة، باب زكاة المال،ج:2،ص: 304)


فتویٰ نمبر : 10792/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں