بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ ریٹیلر کا بھجوانے والے اور جس کو بھیجا جارہا ہو دونوں سے کمیشن کاٹنا


سوال

ہمارا منی ٹرانزیکشن کا کاروبار ہے ،اس میں دو قسم اکاؤنٹ استعمال ہوتے ہیں، ایک ماسٹر اکاؤنٹ (جو کمپنی کا اکاؤنٹ ہوتا ہے) اور ایک سادہ اکاؤنٹ (جو ریٹیلر کا اپنا اکاؤنٹ ہوتا ہے) ہم اپنا اکاؤنٹ استعمال کرتے ہیں ،اور لوگوں کی رقوم ٹرانسفر کرتے ہیں ،اس میں ہمیں دو طرح منافع ملتا ہے، (1) ہمیں ایک بندہ 10 لاکھ روپے دیتا ہےاور وہ ہمیں اس کی تقسیم کرنے کے لیے  مختلف لوگوں کے ایزی پیسہ، جاز کیش یا بنک اکاؤنٹ دیتے ہیں تاکہ ہم اس 10 لاکھ کو ان کسٹمرز کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کریں۔اور  اس کے بدلے وہ  ہمیں ایک لاکھ پر  300 روپے کمیشن دیتے ہیں  تو کیا  ہمارے لیے یہ 300 کمیشن لینا جائز ہے؟(2)  پہلے جب ہم کسٹمر کو پیسے بھیجتے تھے،تو  اپنے جاز کیش یا ایزی پیسہ کمپنی کے ماسٹر اکاؤنٹ سے بغیر انگوٹھے کے بھیجتے تھے ۔ جب ہم کسٹمر کو 50 ہزار بھیجتے تھے تو اس میں ہمیں کمپنی کی طرف سے  70 روپے کمیشن ملتا تھا ،اور کسٹمر سے 50 ہزار میں 312 روپے چارجز کٹتے تھے یعنی کسٹمر کو 49788 روپے اکاؤنٹ میں آتے تھے ۔ لیکن اب بائیومیٹرک انگوٹھے کے بغیر پیسے ٹرانسفر نہیں ہوتے۔ تو اس وجہ سے  کسٹمر کو ہم اپنے ذاتی  پرسنل  بینک اکاؤنٹ ، جاز کیش یا ایزی پیسہ  سے پیسے ٹرانسفر کرتے  ہیں۔ اور 312 روپے چارجز کی بجائے صرف 200 روپے چارج کرتے ہیں، لیکن کسٹمر کو سلیپ پورا بناکر بھیجتے ہیں(مثلاً: 5000 میں تو ہم اپنے 200 کاٹ لیتے ہیں ،لیکن اس کو پورے 5000 کا سلیپ بھیجتے ہیں)، تو کیا یہ ہمارے  لیے اپنا چارجز بنوا کر کاٹ لینا جائز ہے  یا  نہیں ؟جب کہ  کمپنی ہم سے زیادہ  کسٹمر سے چارج کرتی ہے؟اور اس رقم کا حکم کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی متعین شخص، کمپنی یا ادارہ کی جانب سے کسی کام پر مامور شخص اجیر کہلاتا ہے پھر اگر وہ اجیر صرف مستاجر ہی کے واسطے کام کرنے کے لیے  اجارہ پر رکھا گیا ہو، تو اجیر خاص اور اگر متعین وقت میں کسی ایک متعین شخص یا کمپنی کے لیے کام کرنے کا پابند  نہ ہو، تو وہ اجیر مشترک کہلائے گا،اجیر مشترک کام کرنے کے بعد  اپنی خدمات کے عوض اجرت لینے کا حقدار ہوتا ہے۔ نیز ایزی پیسہ ریٹیلر کی حیثیت وکیل بالاجرۃ کی ہے ،جس میں وہ صرف اپنے مؤکل سے ہی  اجرت لینے کا حقدا ر ہوتا ہے ،ایسا جائز نہیں کہ مؤکل سے بھی اجرت لے اور کسی دوسرے  سے بھی۔

صورت مسئولہ کے مطابق  سائل  کا اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے پیسے ٹرانسفر کرنے پر  بھجوانے والے سے کمیشن لینا جائز ہے، کیونکہ اس صورت میں سائل اپنی خدمات کے عوض اجرت لے رہا ہے اور یہ  جائز ہے، البتہ جس کو یہ رقم ٹرانسفر کر رہاہو اس سے کٹوتی کرنا جائز نہیں، کیونکہ ایک کام پر دونوں طرف  سے اجرت لینا جائز نہیں۔

 

(الأجراء على ضربين: مشترك، وخاص.فالأول من يعمل لا لواحد) كالخياط ونحوه (أو يعمل له عملا غير موقت) كأن استأجره للخياطة في بيته غير مقيدة بمدة كان أجيرا مشتركا وإن لم يعمل لغيره (أو موقتا بلا تخصيص) كأن استأجره ليرعى غنمه شهرا بدرهم كان مشتركا، إلا أن يقول: ولا ترعى غنم غيري، وسيتضح(ولا يستحق المشترك الأجر حتى يعمل كالقصار ونحوه). (الدر المختار شرح تنویرالأبصار،کتاب الإجارة، باب ضمان الأجیر،ج:9،ص:87-88)

المادة (1467) إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة ، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا. فليس له أن يطالب بالأجرة.(مجلة الأحكام العدلية،الكتاب الحادي عشر:في الوكالة،الباب الثالث في بيان أحكام الوكالة،المادة:1467،ص:285)

وإن وردت الإجارة على العمل كالخياطة والصبغ، فلا يجب الأجر مالم يفرغ الأجير من العمل. (شرح المجلة لسليم رستم باز، كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، ج:9، ص:94)


فتویٰ نمبر : 3959/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں