بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

میت کو مسنون کفن سے زیادہ کفن دینا


سوال

ہمارے علاقہ میں میت کو کفن دیتے وقت سنت کفن سےزیادہ کفن دیا جاتاہے،یعنی مرد کےلیےچارکپڑےاورعورت کےلیےچھ کپڑوں کا کفن بنایاجاتاہے،کیا شریعتِ مطہرہ میں اس اضافہ کی گنجائش ہے یانہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مرد کو تین کپڑوں میں کفنانا سنت ہے؛ کرتا، ازاراور چادر۔ اور عورت کو پانچ کپڑوں میں کفنانا سنت ہے؛ کرتا، ازار، سربند، سینہ بند، چادر۔

 لہذاصورت مسئولہ  کے مطابق  میت کو کفن دیتے وقت سنت کفن  کی رعایت رکھنا ضروری ہو گا اور اس سے تجاوزٹھیک نہیں۔

 

وأما الكلام في كمية الكفن.فنقول: أكثر ما يكفن فيه الرجل ثلاثة أثواب: إزار، ورداء، وقميص وهذا عندنا......وروي عن علي رضي الله عنه أنه قال: " كفن المرأة خمسة أثواب، وكفن الرجل ثلاثة، " ولا تعتدوا إن الله لا يحب المعتدين "؛ ولأن حال ما بعد الموت يعتبر بحال حياته.(بدائع الصنائع فی ترتيب الشرائع،کتاب الجنائز،فصل كيفية وجوب التكفين،ج:1،ص:306)


فتویٰ نمبر : 10792/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں