بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
بہنوں کو بعض ترکہ میں سےدینا اوربعض سے محروم کرنا
سوال
ہمارا باپ وفات پا چکاہے ان کے اموال میں سے گاؤں والا گھر اوربازار کی چند دکانیں ہیں ہمارے بھائیوں کا کہنا کہ بہنوں کا حق صرف گاؤں کے گھرمیں ہے، بازار کی دکانوں میں ان کاحق نہیں بنتا، کیا واقعی بہنوں کا حق صرف گاؤں والے گھرمیں ہوتاہے یا باپ کی سب جائیدادوں میں ؟نیز باپ کے وفات کے وقت ہم پانچ بہنیں اور دو بھائی زندہ موجود تھے، مرحوم کا ترکہ مذکورہ ورثاءمیں کس حساب سے تقسیم ہوگا؟
جواب
جاننا چا ہیے کہ جب کوئی فوت ہوجائے تواس کا جتنا مال اورجائیداد رہ جائے وہ سب ترکہ میں سے شمار ہوکر حقوق متقدمہ علی الارث کی ادائیگی کے بعد ورثاء کے درمیان قانونِ شرعی کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگر بازارکی دکانیں واقعی مورث کی ملکیت تھیں تو وہ مورث کے ترکہ میں سے شمارہو کر بیٹوں کی طرح بیٹیوں کو بھی اس میں حق ملے گا۔ بہنوں کے حق کو صرف گاؤں کے گھر تک محدود کرناشرعاً جائزنہیں۔
2۔مرحوم کا ترکہ مندرجہ بالاورثاء میں درج ذیل حساب سے تقسیم ہوگا کہ :
مـــــــــــــــــــ(مرحوم)ـــــــــــــ(9)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی
2 2 1 1 1 1 1
بشرط صدق وثبوت اگر مرحوم کے مذکورہ بالا ورثاء کے علاوہ اور کوئی قریبی وارث زندہ موجود نہ ہو،تو بعد از اداے حقوق متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ نو(9)حصوں میں تقسیم ہو کر بیٹوں میں سے ہر ایک کو 2/9 حصے ،جبکہ بیٹوں میں سے ہرایک کو 1/9 حصہ ملے گا۔
قال الله تعالى: ﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [النساء: 11]
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں