بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ٹھیکدار کا محکمہ سے زیادہ قیمت وصول کر کےسٹاف کو کم دینا


سوال

محکمہ سوئی گیس میں بعض جو نئیر سٹاف اور لیبر کا تقرر بطور ڈیلی ویجز ہوتا ہے، جس کی تقرری کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ان کا انتخاب تو محکمہ کے آفیسر کرتے ہیں لیکن ان کو تنخواہ دینے ، زخمی ہونے کی صورت میں ان کے علاج معالجہ کے لیے رقم دینے ، ان کی EOBI پنشن کے لیے رقم جمع کرنے و غیره تمام امور کے ذمہ دار ٹھیکیدار ہوتے ہیں، یعنی یہ ٹھیکدار کا سٹاف /لیبر سمجھے جاتے ہیں،محکمہ بھی انہیں ٹھیکیدار کا لیبر / سٹاف کہتا ہے، ٹھیکیدار بھی یہی سمجھتاہے، اور ٹھیکیدار کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ان کو بر وقت  تنخواہ دے، پھر ٹھیکیدار نے جتنے سٹاف کو مہینہ بھر میں فراہم کیا ہوتا ہے، محکمہ طے شدہ ریٹ کے مطابق بعد میں ادائیگی کرتا ہے، یہاں ٹھیکیدار سٹاف/لبیر کو جو ادائیگی کرتا ہے، اس کا ریٹ کم ہوتا ہےمثلا( 1000 روپے) اورٹھیکیدار کا محکمہ کے ساتھ جو ریٹ ہوتا ہے وہ زیادہ ہوتا ہے (مثلا1100 روپے) ، اس طرح ٹھیکیدار کو کچھ رقم بچت ہو جاتی ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ بچت ٹھیکیدار کے لیے حلال ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ کسی شخص یا ادارہ کو سٹاف یا لیبر فراہم کرنے کا معاملہ شرعا اجارہ کے حکم میں داخل ہے جس میں اجارہ کی شرائط موجود ہوں تو یہ معاملہ شرعا جائز ہوگا۔

صورت مسؤلہ میں اگر محکمہ ٹھیکیدار کو سٹاف فراہم کرنے کا ٹھیکہ دیتا ہو،اور ٹھیکدار محکمہ کے اصول کے مطابق سٹاف  فراہم کر کے ان  کے لیے مخصوص اجرت مقرر کرے ،اور عرفااور قانونا یہ ٹھیکیدار کاسٹاف سمجھا جاتا ہو،تو جتنی اجرت پر ٹھیکید ارنے ان کے ساتھ بات کی، اتناہی  ان کا حق ہو گا، اگر چہ ٹھیکیدار نے محکمہ سے زیادہ اجرت پر ٹھیکہ لیا ہو، لہذ ااسٹاف کو ان کی تنخواہیں دینے کے بعد ٹھیکیدار کے ساتھ بچت شده رقم ٹھیکدار کے لیے لینا جائز اور حلال ہے ۔

 

‌وللأجير ‌أن ‌يعمل ‌بنفسه وأجرائه إذا لم يشترط عليه في العقد أن يعمل بيده؛ لأن العقد وقع على العمل، والإنسان قد يعمل بنفسه وقد يعمل بغيره؛ ولأن عمل أجرائه يقع له فيصير كأنه عمل بنفسه، إلا إذا شرط عليه عمله بنفسه؛ لأن العقد وقع على عمل من شخص معين، والتعيين مفيد؛ لأن العمال متفاوتون في العمل فيتعين فلا يجوز تسليمها من شخص آخر من غير رضا المستأجر. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الإجارة ، فصل في حكم الإجارة، ج :4، ص :208)


فتویٰ نمبر : 6515/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں