بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مخلوط تقریب میں شرکت کرنا


سوال

ہم بھائی سب ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔ میرے بڑے بھائی کی شادی قریب ہے میں نے پوری کوشش کی کہ شادی میں مرد وعورت کے لیے الگ انتظام ہو، لیکن گھر والے اس پر راضی نہیں ہیں، جبکہ میں اس عمل کوناپسند کرتا ہوں اور میں حوصلہ افزائی نہیں کرتا، میں صرف مجبوری کی وجہ سے شریک ہورہا ہوں کہ میرے بھائی اور گھر والے ناراض نہ ہو، نیز میں صرف کھانے تک وہاں بیٹھوں گااورمخلوط ماحول میں بالکل شریک نہیں ہوں گااور جیسے ہی رسومات شروع ہوں گی، فوراً نکل آؤں گا،کیا اس حد تک میری شرکت جائز ہے یا پھر اس سے بھی گناہگارہوں گا؟

جواب

شریعتِ مطہرہ میں مرد وعورت کے آزادانہ اختلاط، بے پردگی اورغیر محرموں کے میل جول سے سختی کے ساتھ منع  کیا گیا ہے۔البتہ اگر  کوئی ناجائز اختلاط ورسومات سے بچتے ہوئے بقدر ضرورت کسی تقریب میں حاضری دے تو اس کی گنجائش ہے۔

 صورت مسؤلہ کے مطابق اگر بھائی کی شادی کی تقریب میں سائل کی نصیحت اور کوشش کے باوجود مرد اورعورت کے لیے الگ انتظام نہ ہوا، اورصلہ رحمی  کی بنا پر سائل حاضری دے جب کہ مخلوط ماحول یا دیگر حرام کاموں سے اپنے آپ کو دور رکھے اور نظروں کی حفاظت   کرتاہے اوردل سے اس عمل کو ناپسند بھی کرتاہے اور ضروری شرکت  کے بعد فوراً نکلے، توایسی شرکت کی  گنجائش ہے۔

 

وفي التتارخانية عن الينابيع: لو دعي إلى دعوة فالواجب الإجابة إن لم يكن هناك معصية ولا بدعة والامتناع أسلم في زماننا إلا إذا علم يقينا أن لا بدعة ولا معصية. (رد المحتار على الدر المختار، ج: 6، ص: 348)


فتویٰ نمبر : 6544/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں