بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

خاص مسائل میں كافر قاضی کا فیصلہ


سوال

جس ملک میں اسلامی حکومت اور اسلامی عدالتی نظام نہ ہو، تو وہاں مسلمانوں کے گھریلو مسائل جن کا فیصلہ شرعی قاضی کیا کرتا ہو، جیسے فسخ نکاح وغیرہ میں کافر قاضی فیصلہ کرسکتا ہے یا نہیں؟ اور اگر فیصلہ کرے، تو  کیا یہ حقیقت میں شرعی طلاق یا فسخ کے طور پر شمار ہوگا، اور زوجین کے ازدواجی تعلق پر کوئی اثر پڑے گا یا نہیں؟ نیز یہ کہ جہاں اسلامی عدالتی نظام نہ ہو، تو وہاں کے مفتیان کرام قاضی کے فرائض انجام دےسکتے ہیں یا نہیں؟ یعنی یہ کہ وہاں فسخ نکاح وغیرہ کے فیصلے كرسكتے ہیں یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ جس ملک میں مسلمانوں کی  حکومت اور اسلامی عدالتی نظام نہ ہو، اور مسلمان اقلیت میں ہو، تو وہاں کےعام قوانین مسلمانوں پر لاگو ہوں گے، البتہ مسلمانوں کے وہ شخصی مسائل جس میں مسلمان قاضی کا فیصلہ ضروری ہو جیسے فسخ نکاح وغیرہ  اگر ان کے حل کرنے کے لیے الگ کونسل بنایا گیا ہو اور اس میں مسلمان قاضی مقرر کیا گیا ہو،تو اس قاضی کا فیصلہ مسلمانوں پر نافذ ہوگا،اگر چہ حاکم کافر کیوں نہ ہو،البتہ کافر قاضی کا فیصلہ معتبر نہیں ہوگا،کیونکہ قاضی کے  فیصلہ کرنے کے لیے شرط یہ ہے کہ قاضی کو ولایت حاصل ہو اور کافر آدمی کو مسلمانوں پر ولایت حاصل نہیں ہوتی،لہذا ایسے مسائل میں کافر قاضی کا فیصلہ شرعاً معتبر نہیں ہوگا، چنانچہ اگر کافر قاضی کہیں فسخِ نکاح  کا فیصلہ کرے،تو اس کوشرعا اعتبار نہ ہوگا،اور زوجین کا ازدواجی تعلق برقرار رہے گا،تاہم جہاں  کہیں مسلمان عدالت میسر نہ ہو تو وہاں پر کسی بااختیار اسلامی تنظیم یا اسلامی ادارہ یا جرگہ کے تعاون سے یہ کارروائی بروئے کار لائی جاسکتی ہے،ليكن اس پنچائيت اور اسلامی ادارے کے فیصلے اس وقت شرعا معتبر ہوں گے جب اس میں شرائط کالحاظ رکھا جائے اور شرائط یہ  ہےکہ وہ  جرگہ،پنچائیت یا کونسل کم از کم تین افراد پر مشتمل ہو،اس  میں سمجھ دار علما موجود ہوں اور اگر علما اس  میں موجود نہ ہوں  تو مسائل میں ان کی طرف رجوع کی جاتی ہو،اس  کے ارکان متفقہ فیصلہ کریں اگر اختلاف رائے ہو تو فیصلہ معتبر نہ ہوگا، نیز یہ کہ  جس حد تک کسی مسلمان قاضی کو فسخِ نکاح کا حق حاصل ہوتا ہے،اسی حد تک اس کو بھی حق حاصل ہوگا،چنانچہ اگر بیوی اپنے شوہر کے خلاف متعنت ہونےکایا مجنون ہونے کایانامرد اور لاپتا ہونے کا دعوی دائر کرے اور کونسل انصاف کے تقاضوں کو پورا کرکے اس نتیجے پر پہنچےکہ واقعی فسخ نکاح کی ضرورت ہے،اور فسخ نکاح کی ڈگری کا حکم صادر کرے تو ایسا   فیصلہ طرفین کے حق میں نافذ ہوکر طلاق کے حکم میں رہے گا، اور عدت گزارنے کے بعد عورت دوسری جگہ شادی کر سکتی ہےاور اگر بیوی صرف شوہر کی ناپسندیدگی کی وجہ سے فسخِ نکاح کو طلب کرے تو کونسل کواس صورت میں  فسخِ نکاح کا حق حاصل نہ ہوگا،ہاں جہاں کہیں مسلمانوں کی حکومت ہو اور ملکی قوانین میں اس کے لیے نظام بنایا گیا ہو،تو اس میں شرعا جدائی اس وقت مؤثر ہوگی جب اسلام کے بنیادی اصول سے متصادم نہ ہو۔

 

وفی الخانية:فأهله من يكون أهل الشهادة، ومن لايكون أهل الشهادة كالعبد والصبي والأعمی والمرأة والكافر لايكون أهلا للقضاء، حتی لو قلد و قضی لا ينفذ قضاءه. (الفتاوی التاتارخانية، كتاب أدب القاضي، ج:11، ص:3)

 (ويجوز ‌تقلد ‌القضاء ‌من ‌السلطان العادل والجائر) ولو كافرا. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار، ص:465)

الذی عليه الجمهور وبه العمل وهو المشهور أن ذلك التفريق و وسائله وما يتعلق به للحاكم، فإن عدم حسا أو اعتبارا، فجماعة المسلمين الثلاثة فما فوق تقوم مقامه ولا يكفي الواحد في مثل هذا. (الحيلة الناجزة، ص:34، 35)


فتویٰ نمبر : 6570/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں