بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قفیز الطحان کی بعض صورتوں اور استصناع کے جواز پر شبہ


سوال

گزارش ہے کہ بیع معدوم اور قفیزا لطحان کے عدم جواز کا حکم جب نصوص قطعیہ سے ثابت ہے تو پھر عرف کے اعتبار سے بیع معدوم کی بعض صورتوں (جیسے: چیز بنوا کر آرڈر پر خریدنا، یا قفیز طحان کی طرز پر اجرت) کو جواز دینا کس حد تک درست ہوگا؟ نیز کیا یہ عرف کا اعتبار نصوصِ صریحہ کے مقابلے میں نہیں آتا؟ جبکہ اصول یہی ہے کہ عرف کی حجیت نصوص کے تابع ہے نہ کہ مخالف۔

جواب

واضح رہے کہ شریعت مطہرہ نے بہت سے مسائل میں عرف کو اعتبار دیا ہے اور بہت سے احکامات کی بنا عرف اور تعامل پر رکھی ہے، لیکن یہ بات ملحوظ رہنی چاہیئے کہ شریعت میں ہر قسم کا عرف معتبر نہیں،بلکہ جو عرف شریعت کے کسی نص سے معارض ہوجیسے:محرمات (سود،شراب )کے ارتکاب پر لوگوں کاتعامل ہوجائےتو ایسا عرف نص کے مخالف ہونے کی وجہ سے معتبر نہیں ہوتا، نیز اگر کوئی نص ایسا ہو جس میں دوسرے نص کے ذ ریعے سےتخصیص کی گئی ہو، تو اس نص میں دلیل ظنی جیسے :عرف ،خبرواحد اور قیاس کے ذریعے سے مزید تخصیص کرنا جائز ہوتا ہے، لیکن اس حد تک تخصیص کرنا کہ نص کے تحت ایک فرد بھی باقی نہ رہے جائز نہیں ، جیسے: "لا تبع ما لیس عندک"حدیث میں اُس نص کے ذریعے تخصیص کی گئی ہے جس میں "بیع سلم " کا جواز مذکور ہے ، لہذا اس میں عرف کی وجہ سے مزید تخصیص کی گنجائش موجود ہے۔

چنانچہ استصناع یعنی آرڈر پر چیز بنواکر خریدنے پرچونکہ امت کا تعامل چلا آرہاہے اس لیے اس تعامل کی وجہ سے استصناع بھی اس ممانعت کی نص سے خارج ہوگیا ہے۔اور جہاں تک قفیز الطحان کی طرز پر اجرت کے جواز کا مسئلہ ہے تو اول تو قفیز الطحان والی حدیث پرعلماءکرام نے کلام کیا ہے اور اس کو معلول اور منکر قرار دیا ہے،اور پھر اس کے جواز و عدم جواز میں ائمہ کرام کا اختلاف ہے حضرات ِاحناف اور شوافع اس کو منع کرتے ہیں،جبکہ مالکیہ اور حنابلہ اس کے جواز کے قائل ہیں،نیز یہ کہ اگر قفیز الطحان والی روایت ثابت اور بے غبار مان لی جائے تو بھی اس خاص صورت کے علاوہ باقی صورتوں میں یہ حکم اکثر علما کے ہاں قیاس کے ذریعے سے ثابت ہے اور پہلے گزر چکا ہے کہ عرف عام کی وجہ سے قیاس کو ترک کرنا جائز ہے،اس لیے قفیز الطحان کی طرز پر اجرت کی اجازت ہوگی اور یہ نص صریح کے مقابل  متصور نہیں ہوگابلکہ قیاس سے ثابت شدہ حکم کو عرف کی وجہ سے چھوڑ دیناہوگا۔

 

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال:...من سلف في تمر، فليسلف في كيل معلوم، ووزن معلوم. (صحيح البخاري، كتاب السلم، رقم الحدیث: 2124، ج:2، ص:781)

عن حكيم بن حزام قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يأتيني الرجل يسألني من البيع ما ليس عندي، أبتاع له من السوق ثم أبيعه؟ قال: لا تبع ما ليس عندك. (سنن الترمذي،أبواب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، رقم الحديث:1232، ج:2، ص:514)

إذا خالف العرف الدليل الشرعي، فإن خالفه من كل وجه بأن لزم منه ترك النص، فلا شكّ في رده، كتعارف الناس كثيرا من المحرّمات من الربا، و شرب الخمر، ولبس الحرير والذهب، و غير ذلك مما ورد تحريمه نصا، وإن لم يخالفه من كل وجه، بأن ورد الدليل عاماً والعرف خالفه في بعض أفراده، أو كان الدليل قياسا،فإن العرف معتبر إن كان عاما،فإن العرف العام يصلح مخصّصا كما مرّعن التحرير، ويترك به القياس كما صرحوا به في مسئلة الاستصناع، و دخول الحمام، والشرب من السقا. (مجموعة رسائل ابن عابدين، الرسالة الرابعة والعشرون، نشرالعرف في بناء بعض الأحكام  علی العرف، ج:2،ص: 158)

وتخصيص النص بالتعامل جائز،ألا ترى أنا جوزنا الاستصناع للتعامل،والاستصناع بيع ما ليس عنده، وأنه منهيّ عنه، و تجويز الاستصناع بالتعامل تخصيص منه للنص الذي ورد في النهي عن بيع ما ليس عند الإنسان، لا ترك للنص أصلاً؛لأنا عملنا بالنص في غير الاستصناع. (مجموعة رسائل ابن عابدين، الرسالة الرابعة والعشرون، ج:2، ص:158)

ومتى ثبت التخصيص في العام بدليله فحينئذ يجوز تخصيصه بخبر الواحد والقياس على ما نبينه إن شاء الله تعالى. (أصول السرخسي، ج:1، ص:134)

بخلاف ما نحن فيه فإنه في معنى قفيز الطحان من كل وجه؛ لأنه استئجار محض ليس فيه شائبة المضاربة، فلهذا قيل: ‌إنه ‌ثابت ‌بدلالة ‌النص دون القياس. ولئن سلم مخالفة ما سيجيء من المصنف هناك لما ذكره صاحب العناية هاهنا فلا ضير فيها؛ لأن فيما نحن فيه قولين: أحدهما ‌أنه ‌ثابت ‌بدلالة ‌النص فلا يترك بالعرف، وهو مختار شمس الأئمة السرخسي.وثانيهما أنه من حيث القياس فيترك بالتعامل كالاستصناع، وهو مختار شمس الأئمة الحلواني وأستاذه القاضي الإمام أبي علي النسفي كما فصل في المبسوط وغيره وذكر في النهاية، ومعراج الدراية أيضا. (نتائج الأفكار تكملة فتح القدير، باب الإجارة الفاسدة، ج:9 ، ص:110)

"هشام" أبو كليب عن ابن أبي نعيم والشعبي، وعنه الثوري كعبيد الله بن موسى عن سفيان عنه عن أبي نعيم عن أبي سعيد قال نهى عن عسب الفحل وعن قفيز الطحان، هذا منكر وراويه لا يعرف انتهى وذكره ابن حبان في الثقات. (لسان الميزان، لابن حجر العسقلاني، من اسمه هشام، ج:6، ص:198)

 (فصل) وقد ذكر ابن عقيل أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن ‌قفيز ‌الطحان وهو ان يعطي الطحان أقفزة معلومة يطحنها يقفيز دقيق منها وعلة المنع أنه جعل له بعض معموله أجراً لعمله فيصير الطحن مستحقاً له وعليه وهذا الحديث لا نعرفه ولم تثبت صحته ولا ذكره أصحاب السنن وقياس قول أحمد جوازه لما ذكرنا عنه من المسائل. (الشرح الكبير علی متن المقنع،  ج:5، ص:194)

ومما ورد النهي فيه من هذا الباب ما روي: أنه صلى الله عليه وسلم نهى عن عسيب الفحل، وعن كسب الحجام، وعن ‌قفيز ‌الطحان . قال الطحاوي: ومعنى نهي النبي صلى الله عليه وسلم عن ‌قفيز ‌الطحان هو ما كانوا يفعلونه في الجاهلية من دفع القمح إلى الطحان بجزء من الدقيق الذي يطحنه، قالوا: وهذا لا يجوز عندنا، وهو استئجار من المستأجر بعين ليس عنده، ولا هي من الأشياء التي تكون ديونا على الذمم، ووافقه الشافعي على هذا. وقال أصحابه: لو استأجر السلاخ بالجلد والطحان بالنخالة، أو بصاع من الدقيق فسد لنهيه صلى الله عليه وسلم عن ‌قفيز ‌الطحان، وهذا على مذهب مالك جائز؛ لأنه استأجره على جزء من الطعام معلوم، وأجرة الطحان ذلك الجزء وهو معلوم أيضا.(بداية المجتهدونهايةالمقتصد، باب الإجارات، ج:2، ص:396)


فتویٰ نمبر : 4015/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں