بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
مدتِ دراز کے بعد ملکیت کا دعوٰی کرنا
سوال
اگر کوئی شخص کسی زمین کا مالک ہو اور اس پر قبضہ بھی حاصل ہو، اور وہ اس میں مالکانہ تصرفات بھی کررہا ہو، تو کافی مدت گزرجانے کے بعد اگر کوئی دوسرا شخص اس زمین پر ملکیت کا دعوٰی کرے، تو کیا اس کا یہ دعویٰ قابل سماعت ہوگا؟ اور کیا شریعت میں اس کے لیے کوئی حد مقرر ہے کہ نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ کسی بھی چیز پر عرصہ دراز تک قبضہ کرنے سے اصل مالک کی ملکیت اس چیز سے ختم نہیں ہوتی ہے، بلکہ وہ اصل مالک کی ملکیت میں باقی رہتی ہے۔ لیکن انتظامی ضرورت کی بناء پر فقہائے متاخرین نے شرعی اجتہاد کی رو سے چھتیس سال سے زائدعرصہ گزرجانے کے بعد پیش آنے والے مقدمات ناقابلِ سماعت قرار دیے ہیں، اور اسی پر فتوی ہے۔ اس لیے اگر کوئی شخص بغیر کسی شرعی عذر کے چھتیس سال تک اپنے حق کا مطالبہ نہ کرے، تو اس کے بعد اس کو یا اس کے ورثا کو عدالت میں مطالبے کی اجازت نہ ہوگی۔ البتہ اگر کسی معقول اور شرعی عذر کی بناء پرچھتیس سال کے اندر اپنے دعوی کو عدالت میں پیش نہ کرسکا ہو، توایسی صورت میں کسی مدت کی تعیین کے بغیر عدالت کو اس مقدمہ کی سماعت کا اختیار ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص کسی زمین کا مالک ہو، اس پر قبضہ بھی حاصل ہو اور مالکانہ تصرفات بھی کررہا ہو، تواگر کوئی دوسرا شخص چھتیس سال سے کم مدت میں اس زمین پرملکیت کا دعویٰ کررہا ہو، تو اس کا دعوی قابل سماعت ہوگا، البتہ اگر بغیر کسی شرعی عذرکے چھتیس سال یا اس سے زیادہ مدت گزرنے کے بعد دعوی کیا جائے، تو ایسا دعوی قابل سماعت نہیں ہوگا۔
فلا ينافي ما في الأشباه وغيرها من أن الحق لا يسقط بتقادم الزمان اهـ؛ ولذا قال في الأشباه أيضا: ويجب عليه سماعها اهـ: أي يجب على السلطان الذي نهى قضاته عن سماع الدعوى بعد هذه المدة أن يسمعها بنفسه، أو يأمر بسماعها، كي لا يضيع حق المدعي. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب القضاء، فصل في الحبس، فروع القضاء مظهر لامثبت ويتخصص، ج:5، ص:420)
وفي جامع الفتوى عن فتاوى العتابي قال المتأخرون من أهل الفتوى: لا تسمع الدعوى بعد ست وثلاثين سنة إلا أن يكون المدعي غائبا أو صبيا أو مجنونا وليس لهما ولي أو المدعى عليه أميرا جائرا اهـ. ونقل ط عن الخلاصة لا تسمع بعد ثلاثين سنة اهـ. ثم لا يخفى أن هذا ليس مبنيا على المنع السلطاني بل هو منع من الفقهاء فلا تسمع الدعوى بعده وإن أمر السلطان بسماعها. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب القضاء، فصل في الحبس، فروع القضاء مظهر لامثبت ويتخصص، ج:5، ص:422)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں