بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مالک کی حرام کمائی سے جائز مزدوری کی تنخواہ لینا


سوال

میں ایک آدمی کے ساتھ دودھ کی دکان میں کام کررہا ہوں اوروہ مجھے اس کے عوض ماہانہ تیس ہزارروپے بطورتنخواہ دیتاہےاس دوسری ذریعہ آمدن حرام ہے وہ ماہانہ جو رقم مجھے تنخواہ میں دیتاہے اس میں مال حرام کی آمیزش بھی ہوتی ہے کیونکہ حلال مال جودودھ  کا ہے اس سے اس کو اتنی آمدنی نہیں ہوتی جس سے وہ ہماری تنخوایں پوری کرے ،اب سوال یہ ہے کہ کیا میرے لیے یہ پیسے حلال ہیں یا نہیں جبکہ میں اس کے ساتھ صرف اسی دودھ کی دکان میں مزدورہوں؟

جواب

واضح رہے کہ جوملازم کسی جگہ حلال وجائزکام کرتا ہواوراس کے بدلے اس کواجرت ملتی ہو،تو اس کووہ اجرت لینا جائزہے اگرچہ اس کے مالک  کے ساتھ حرام ذریعہ آمدنی کا مال  بھی موجود ہو کیونکہ وہ اس کو اس کے جائزعمل کےعوض اجرت دیتاہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق دودھ کی دکان میں کام کرنے والا ملازم اگرحلال طریقے سے کام کرتاہوتومالک کی جانب سے اس کودی گئی اجرت لینا جائزہے اگرچہ اس کے مالک کے پاس دوسرے حرام ذریعہ آمدن کا مال بھی موجود ہو،کیونکہ اس مزدورکو اپنے جائز خدمات کےعوض تنخواہ ملتی ہے۔

 

وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها، كذا في الملتقط.(الفتاوی الهنديه،کتاب الکراہیة،الباب الثانی عشر فی الہدایا والضیافات ،ج:5،ص:343)


فتویٰ نمبر : 6353/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں