بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

سجدہ سہوواجب نہ ہو نے کے باوجود سجدہ سہوکر نا


سوال

اگر نماز میں ایسی غلطی ہو جس کی وجہ سے سجدۂ سہو واجب نہ تھا، لیکن اس کے باوجود سجدہ سہو کر لیا جائے، تو کیا نماز درست ہوگی یا اس نماز کا اعادہ لازم ہوگا؟

جواب

اگر نماز میں کوئی ایسی کمی یا زیادتی  ہوجائےجس کی وجہ سے سجدہ سہو واجب  نہ ہو، لیکن لاعلمی کی وجہ سے اس کو سجدہ سہو کے وجوب کا سبب قرار دیا جائے اور سجدہ سہو ادا کیا جائےتو اس سے نماز پر اثر نہیں پڑتا ۔

  لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق  اگرنمازمیں کوئی ایسی غلطی ہو جائے جس کی وجہ سے سجدۂ سہو واجب نہ ہو،لیکن اس کے باوجود سجدہ سہو ادا کیا جائےتواس سے نماز پرکوئی اثرنہیں پڑتا اورایسے نماز کا اعادہ کر نابھی ضروری نہیں ہے۔

 

 إذا ظن الإمام أنه عليه سهواً فسجد للسهو وتابعه المسبوق في ذلك ثم علم أن الإمام لم يكن عليه سهو فيه روايتان ... وقال الإمام أبو حفص الكبير: لايفسد، والصدر الشهيد أخذ به في واقعاته، وإن لم يعلم الإمام أن ليس عليه سهو لم يفسد صلاة المسبوق عندهم جميعاً"(.خلاصة الفتاوى، كتاب الصلوة، الفصل الخامس عشر في الإمامة والإقتداء، ج:1، ص:163)

ولو ظن الإمام السهو فسجد له فتابعه فبان أن لا سهو فالأشبه الفساد لاقتدائه في موضع الانفراد.قال ابن عابدين: قوله ( فالأشبه الفساد) وفي الفيض: وقيل لا تفسد وبه يفتي. وفي البحر عن الظهيرية قال الفقيه أبو الليث: في زماننا لا تفسد لأن الجهل في القراء غالب۔(الدرالمختارمع ردالمحتار، كتاب الصلوة، باب الإمامة، ج:2، ص:350)


فتویٰ نمبر : 10598/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں