بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

دعائے قنوت کی جگہ کوئی اور دعا ئے ماثورہ پڑھنا


سوال

اگر کسی شخص کو دعائے قنوت یاد نہ ہو کیا وہ اس کی جگہ کوئی اور دعا ئے ما ثورہ پڑھ سکتا ہے یا نہیں اور کیا اس سے نماز درست شمار ہو گی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ وتر میں  دعائے قنوت پڑھنا سنت ہےتاہم اگر کسی کو دعائے قنوت یاد نہ ہو،تو وہ اس کی جگہ کوئی اور مسنون دعا جیسے"اللهم ربنا آتنا" يا"اللهم اغفر لي" تین مرتبہ پڑھ سکتا ہے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق  اگر کسی کو دعائے قنوت یاد نہ ہو اور وہ دعائے قنوت کی جگہ  کوئی اور دعائے ماثورہ پڑھ لےتو اس کی نماز ہو جائے گی ۔

 

 وليس في القنوت دعاء مؤقت. كذا في التبيين والأولى أن يقرأ " اللهم إنا نستعينك " ويقرأ بعده " اللهم اهدنا فيمن هديت " ومن لم يحسن القنوت يقول: ﴿ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار﴾ [البقرة: 201] كذا في المحيط أو يقول: اللهم اغفر لنا ويكرر ذلك ثلاثا.(الفتاوى الهندية،كتاب الصلوة،الباب الثامن في صلوة الوتر،ج:1،ص:111)

(قوله: وهو مطلق الدعاء) أي القنوت الواجب يحصل بأي دعاء كان، في النهر، وأما خصوص: «اللهم إنا نستعينك» فسنة فقط، حتى لو أتى بغيره جاز إجماعًا.( ردالمحتار على الدرالمختار،کتاب الصلوۃ ،باب الوتر ،ج:1ص: 468)


فتویٰ نمبر : 10579/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں