بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نجی اداروں کی طرف سے جاری کردہ اسکیموں میں شرکت کاحکم


سوال

آج کل بعض نجی ادارے (جیسے ہاؤسنگ سوسائٹیز، پرائیویٹ کمپنیاں یا تعلیمی ادارے) ایک خاص  اسکیم کے تحت قسطوں پر اشیاء فراہم کرتے ہیں ، مثلاً: پلاٹ، مکان، گاڑی، یا قیمتی سامان، لیکن ان شرائط کے ساتھ کہ ،1۔ادارہ سامان (مثلاً مکان یا گاڑی) قسطوں پر دیتا ہے لیکن کہتا ہے کہ "جب تک مکمل اقساط ادا نہ ہو جائیں، سامان ادارے کی ملکیت میں رہے گا۔2۔اگر قسطیں مکمل نہ ہوں، تو ادارہ سامان ضبط کر لیتا ہے، اور دی گئی اقساط بھی واپس نہیں کرتا۔3۔بعض اوقات قسطیں مطلوب وقت پرپوری نہ کرنے کی صورت میں  ادارہ اس پر اضافی چارجز/جرمانہ لیتا ہے، جو مجموعی رقم سے زیادہ ہو جاتا ہے۔4۔ادارہ قسطوں پردی ہوئی  چیز سے خود نفع حاصل کرتا ہے (مثلاً مکان کرایے پر دے دیتا ہے)۔اب سوالات یہ ہیں: 1۔ کہ اسی طرح معاملے میں کمپنی کاقسطیں پوری ہونےتک  سامان اپنے پاس رکھنا شرعا رہن کےزمرےمیں آتاہےیانہیں؟2۔کیا ادارے کا خریدار سے مکمل قیمت قسطوں میں وصول کرنے تک ملکیت اپنے نام رکھنا اور قسطوں کی عدم ادائیگی کی صورت میں سامان واپس لینا، شرعاً درست ہے؟3۔کیا ایسی شرط رکھنا کہ "اگر  قسطیں مکمل نہ ہوئیں تو ادا کردہ رقم ضبط ہوگی" شرعاً ظلم یا غصب کے زمرے میں آئے گایااس کاشرعی جواز موجود ہے؟4۔کیا ادارے کا قسطوں پردی ہوئی چیز سے نفع حاصل کرنا (مثلاً کرایہ لینا یا خود استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟ نہیں5۔اگر ادارہ صارف سے "قسطوں میں تاخیر کی صورت  میں" اضافی رقم  (جرمانہ/late fee) وصول کرے، تو کیا یہ جائز ہے؟6۔اداروں  کےان اسکیموں میں شامل ہونا شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟

جواب

واضح رہےکہ کوئی چیز جس طرح نقد ثمن کی ادائیگی  کےساتھ بیچنا جائز ہے اسی طرح قسطوں پربھی بیچنا جائز ہے ،اور قسطوں پر بیچنے کا مطلب  یہ ہے کہ  بیچنے والاخریدار کوسامان اسی وقت دےدے،لیکن خریدار اس چیز کی قیمت فی الحال ادانہ کرے، بلکہ طے شدہ قسطوں  میں اس کی قیمت ادا کرے ،یہ معاملہ شرعا جائز ہے،لیکن اس معاملہ کےصحیح ہونےکےلیے ضروری ہے کہ جس وقت معاملہ کیاجائے اس موقع پر مدت ادائیگی اورقیمت متعین ہوجائےاورادائیگی میں تاخیر کی صورت میں  کوئی جرمانہ لاگو نہ کیاجائے،نیزقسطوں پربیچنے کی صورت میں  بائع کو قیمت کےپوراوصول ہونے تک مبیع کو روکنے کاحق نہیں ہوتا،البتہ اگر بائع مشتری کو سامان ایک مرتبہ  حوالہ کرنے کے بعددوبارہ اس کی مرضی سے  لےکرثمن کی پوری وصولی  تک اپنے پاس بطور رہن ووثیقہ کے رکھے تو اس کی گنجائش ہوگی، نیز بائع مکمل قسطوں کی ادائیگی تک مبیع کی ملکیت اپنے پاس نہیں رکھ سکتابلکہ قسطوں پرسودا طے ہونے  کے بعدخریدار اس کامالک بن جاتاہے،البتہ اگرقسطوں کی عدم ادائیگی کی صورت میں بائع (فروخت کنندہ)خریدار کی رضامندی سے بیع فسخ کرکے اداشدہ قسطیں واپس کرےاورسامان واپس لےلے توشرعا اس کی گنجائش ہے،نیز عقد میں ایسی شرط لگاناجائز نہیں جو مقتضی عقد کے خلاف ہواوراس میں عاقدین میں سےایک کا فائدہ ہویا اس میں معقود علیہ(جس چپز پر عقد ہواہے)کا فائدہ ہو بشرطیکہ وہ فائدے کےحصول کااہل بھی ہو۔

لہذا سوال میں مسئولہ صورتوں کےجوابات درج ذیل ہیں:1۔ قسطوں کے معاملےمیں معاملے میں کمپنی کاقسطیں پوری ہونےتک  سامان اپنے پاس روکنا شرعا جائز نہیں ہے اورنہ ہی یہ رہن کےزمرےمیں آتاہے۔

2۔  ادارے کا خریدار سے مکمل قیمت قسطوں میں وصول کرنے تک ملکیت اپنے پاس رکھناشرعا جائز نہیں بلکہ معاملہ کےمکمل ہونے کےبعد بائع کےلیے ضروری ہےکہ وہ سامان کو خریدار کےحوالہ کرے،البتہ  اگرقسطوں کی عدم ادائیگی کی صورت میں ادارہ خریدار کی رضامندی سے معاملہ فسخ کرےاوراداشدہ قسطیں واپس کرکے سامان واپس لےلے ،توشرعا اس کی گنجائش ہوگی۔

3۔  بیع میں بائع کی طرف سے ایسی شرط لگاناجائز نہیں   :کہ"اگر  قسطیں مکمل نہ ہوئیں تو ادا کردہ رقم ضبط ہوگی" ۔

4۔عقد بیع  ہوتےہی فروخت کنندہ کےلیے ضروری ہےکہ وہ سامان کو خریدار کے حوالہ کرےلہذابائع کا آگے   اس کو اجارہ پر دے کرنفع کمانا جائز نہیں۔

5۔قسطوں کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے ادارہ کا اضافی رقم  (جرمانہ/late fee)لینا جائز نہیں ہے،یہ سود ہے۔

6۔چونکہ  ان اسکیموں  میں مندرجہ بالا خرابیاں  پائی جاتی ہیں  لہذا ان ا سکیموں میں شرکت شرعا جائز نہیں ہے۔

 

وقد فسر بعض أهل العلم، قالوا: بيعتين في بيعة، أن يقول: أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين، ولا يفارقه على أحد البيعين، فإذا ‌فارقه على أحدهما، فلا بأس إذا كانت العقدة على واحد منهما.(سنن الترمذي، أبواب البیوع عن رسول الله صلی الله عليه وسلم، باب ما جاء في النهي عن بیعتین في بيعة، ج:3، ص:84)

(المادة 157) التقسيط تأجيل أداء الدين مفرقا إلى أوقات متعددة معينة.(مجلة الأحكام العدلية، الکتاب الأول في البیوع، المقدمة: في بیان الاصطلاحات الفقهية المتعلقة بالبیوع، ص:33)

(المادة 278) في البيع بالثمن الحال أعني غير المؤجل للبائع أن يحبس المبيع إلى أن يؤدي المشتري جميع الثمن. (مجلة الأحكام العدلية، الکتاب الاول، الباب الخامس، الفصل الثاني في المواد المتعلقة بحبس المبیع، ص:56)

(المادة 284) إذا باع حالا أي معجلا ثم أجل البائع الثمن سقط حق حبسه للمبيع وعليه حينئذ أن يسلم المبيع للمشتري على أن يقبض الثمن وقت حلول الأجل.(مجلة الأحكام العدلية، الکتاب الاول، الباب الخامس، الفصل الثاني في المواد المتعلقة بحبس المبیع، ص:57)

قال: "ومن اشترى غلاما بألف درهم نسيئة فباعه بربح مائة ولم يبين فعلم المشتري، فإن شاء رده، وإن شاء قبل"؛ لأن للأجل شبها بالمبيع؛ ألا يرى أنه يزاد في الثمن ‌لأجل ‌الأجل، والشبهة في هذا ملحقة بالحقيقة فصار كأنه اشترى شيئين وباع أحدهما مرابحة بثمنهما...لأن ‌الأجل ‌لا ‌يقابله شيء من الثمن.(الهداية في شرح بداية المبتدي، کتاب البیوع، باب المرابحة والتولية، ج:3، ص:58)

ثم جملة المذهب فيه أن يقال: كل شرط يقتضيه العقد كشرط الملك للمشتري لا يفسد العقد لثبوته بدون الشرط، ‌وكل ‌شرط ‌لا ‌يقتضيه ‌العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين أو للمعقود عليه وهو من أهل الاستحقاق يفسده.(الهداية في شرح بداية المبتدي، باب البیع الفاسد، ج:3، ص:48)

قال: "‌ولو ‌كانت ‌له ‌ألف ‌مؤجلة فصالحه على خمسمائة حالة لم يجز" لأن المعجل خير من المؤجل وهو غير مستحق بالعقد فيكون بإزاء ما حطه عنه، وذلك اعتياض عن الأجل وهو حرام ".(الهداية في شرح بداية المبتدي، کتاب الصلح، باب الصلح في الدین، ج:3، ص:195)

صورته: ‌اشترى ‌شيئا ‌بعشرة ‌نقدا ‌وباعه ‌لآخر ‌بعشرين ‌إلى ‌أجل ‌هو ‌عشرة ‌أشهر، فإذا قضاه بعد تمام خمسة أو مات بعدها يأخذ خمسة، ويترك خمسة... ووجه أن الربح في مقابلة الأجل، لأن الأجل وإن لم يكن مالا، ولا يقابله شيء من الثمن لكن اعتبروه مالا في المرابحة إذا ذكر الأجل بمقابلة زيادة الثمن، فلو أخذ كل الثمن قبل الحلول ‌كان ‌أخذه ‌بلا ‌عوض والله سبحانه وتعالى أعلم.(تکملة رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الخنثی، ج:6، ص:757)

‌ومن ‌اشترى ‌ثوبا ‌بدراهم فقال للبائع أمسك هذا الثوب حتى أعطيك الثمن فالثوب رهن؛ لأنه أتى بما ينبئ عن معنى الرهن وهو الحبس إلى وقت الإعطاء، والعبرة في العقود للمعاني.(الهداية في شرح بداية المبتدي، کتاب الرهن، ما یجوز ارتهانه والارتهان به وما لا یجوز، ج:4، ص:424)

و (لو كان) ذلك الشئ الذي قال له المشتري أمسكه ‌هو (‌المبيع) ‌الذي ‌اشتراه بعينه لو (بعد قبضه) لانه حينئذ يصلح أن يكون رهنا بثمنه (ولو قبله لا) يكون رهنا لانه محبوس بالثمن كما مر.(الدر المختار شرح تنوير الأبصار، کتاب الرهن، باب ما یجوز ارتهانه وما لا یجوز، ص:687)

إذا تأخر المشتري المدين في دفع الأقساط عن الموعد المحدد فلا يجوز إلزامه أي زيادة على الدين بشرط سابق أو بدون شرط لأن ذلك ربا محرم... ولكن يجوز للبائع أن يشترط على المشتري رهن المبيع عنده لضمان حقه في استيفاء الأقساط المؤجلة. (الفقه الإسلامي وأدلته، القسم الرابع: الملکية وتوابعها، معالم النظام الاقتصادي في الإسلام، قرارات مجمع الفقه الإسلامی، البیع بالتقسیط، ج:7، ص:5173)


فتویٰ نمبر : 3853/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں