بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

میٹر کےذریعےکرایہ کی تعیین کی صورت میں ڈرائیورکاغلطی سےمختصرراستےکی بجائےطویل راستےسےسفرکرنا


سوال

ایک جگہ میں یہ معمول ہےکہ سوار جب  کرایہ کی گاڑی میں بیٹھتاہےتومسافت کی تعیین کےلیےایک میٹرآن کیاجاتاہے،پھراسی کےبقدر کرایہ وصول کیاجاتاہے،تو اگرکسی منزل تک دو راستےہوں  اورڈرائیورغلطی سے مختصرراستےکی بجائےطویل راستےسےمنزل تک پہنچےتوکیا سوارسے مختصرراستےکاکرایہ وصول کا جائے گا یا طویل  راستےکا؟

جواب

واضح رہےکہ اجارہ میں کرایہ دارپرمنافع معقودعلیہا (وہ منافع جن پرعقداجارہ منعقد ہواہے)کےپورےاستعمال کرنےسےاجرت لازم ہوجاتاہے،نیز عقداجارہ میں منافع کااس طورپر متعین ہوناضروری ہےکہ وہ " مفضی الی النزاع"نہ ہو (یعنی جھگڑےکاسبب نہ بنے)۔

صورت مسئولہ میں جہاں  میٹر کےساتھ اجرت  کی تعیین پر عرف وتعامل ہو اور جھگڑے کاسبب نہ بنے تو یہ معاملہ جائز ہے پھر غلطی سےطویل راستے پر لےجانےکی صورت میں چونکہ لمبی مسافت طے کی گئی لہذا سوارکو اسی راستےکےبقدر کرایہ  دینالازم ہوگا، ہاں اگرڈرائیور قصدا مختصر راستے کی بجائے لمبے راستےپر سفر کرےتوپھریہ دھوکہ دہی کےزمرے میں داخل ہونے کی وجہ سے جائز نہ ہوگا چنانچہ ایسی صورت میں اندازتا ً مختصر راستےکے  بقدر کرایہ لینا چاہیےجس پر سوار راضی ہو۔

 

قال: "الأجرة لا تجب بالعقد وتستحق بأحد معان ثلاثة: إما بشرط التعجيل، أو بالتعجيل من غير شرط، أو باستيفاء المعقود عليه".(الهداية في شرح بداية المبتدي، کتاب الإجارات، باب الأجر متی یستحق، ج:3، ص:231)

وأما شرائط الصحة فمنها رضا المتعاقدين. ومنها أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوما علما يمنع المنازعة فإن كان مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة يمنع صحة العقد وإلا فلا.(الفتاوى الهندية، کتاب الإجارۃ، الباب الأول: تفسیر الإجارۃ ورکنها وألفاظها وشرائطها، ج:4، ص:411)

"والمنافع تارة تصير معلومة بالمدة كاستئجار الدور، للسكنى والأرضين للزراعة فيصح العقد على مدة معلومة أي مدة كانت"..."وتارة تصير معلومة بنفسه كمن استأجر رجلا على صبغ ثوبه أو خياطته أو استأجر دابة؛ ليحمل عليها مقدارا معلوما أو يركبها مسافة سماها"؛ لأنه إذا بيّن الثوب ولون الصبغ وقدره وجنس الخياطة والقدر المحمول وجنسه والمسافةَ صارت المنفعة معلومة فيصح العقد.(الهداية، کتاب الإجارات، تعریفها، ج:3، ص:230)

(المادة 453) : يلزم عند استئجار الدابة تعيين المنفعة إن كانت للركوب أو للحمل أو لإركاب من شاء على التعميم مع بيان المسافة أو مدة الإجارة.(مجلة الأحكام العدلية، الکتاب الثاني، الباب الثاني، الفصل الثالث في شروط صحة الإجارۃ، ص:86)


فتویٰ نمبر : 3836/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں