بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
اوقات مکروہہ میں نوافل پڑھنا
سوال
احناف کےنزدیک اوقات مکروہہ اوراوقات ممنوعہ میں تحیۃ المسجد پڑھناجائزہےیانہیں، نیز یہ بتائیں کہ شوافع کےہاں اوقات مکروہہ میں تو تحیۃ المسجد پڑھنا جائز ہے کیاان کےہاں یہی حکم اوقات ممنوعہ میں بھی تحیۃ المسجد پڑھنےکاہے؟
جواب
واضح رہےکہ احناف کےہاں اوقات مکروہہ اوراوقات ممنوعہ میں مطلقا نوافل پڑھناجائزنہیں ،مکروہ تحریمی ہے،البتہ اگران اوقات میں نفل پڑھنا شروع کرےتو یہ نفل منعقدہوجاتاہے،البتہ پوراکرنےکی بجائے اس کو توڑ کراوقات غیر مکروہہ میں اس کو پڑھےگا،لیکن اگرانہی اوقات مکروہہ میں بھی اس کو پڑھے توبھی کراہت کے ساتھ اس کاذمہ فارغ ہوجائےگا۔
صورت مسئولہ کےمطابق چونکہ تحیۃ المسجد بھی نوافل میں سےہےلہذاان اوقات میں تحیۃ المسجد پڑھناہمارےہاں جائزنہیں بلکہ مکروہ تحریمی ہے، نیز امام شافعی رحمہ اللہ کےہاں اوقات مکروہہ اور ممنوعہ میں بلاتفریق نوافل ذات الاسباب(جن کےلیےظاہرسبب موجودہو)پڑھناجائزہے،لہذاان کے ہاں اوقات مکروہہ (جوان کےہاں مجموعی طورپرپانچ ہیں)میں تحیۃ المسجد پڑھناجائزہےلیکن شرط یہ ہےکہ انہی اوقات مکروہہ میں تحیۃ المسجد کا قصد نہ کرے،کہ بیٹھ کر اوقات مکروہہ کاانتظارکرےاوراوقات مکروہہ داخل ہونےپرتحیۃ المسجد پڑھےبلکہ اگرمسجد میں دوسرےکسی کام کےواسطے داخل ہواہویاتحیۃ المسجد کےساتھ ساتھ دوسرےکام کےارادےسےداخل ہواہو پھر ان اوقات مکروہہ میں تحیۃ المسجد بھی پڑھ لےتوجائزہے۔
والتطوع في هذه الأوقات[أي: الثلاثة] يجوز ويكره كذا في الكافي وشرح الطحاوي حتى لو شرع في التطوع عند طلوع الشمس أو غروبها ثم قهقهة كان عليه الوضوء ولو صلى فريضة سوى عصر يومه لا تنتقض طهارته بالقهقهة. هكذا في فتاوى قاضي خان في نواقض الوضوء ويجب قطعه وقضاؤه في وقت غير مكروه في ظاهر الرواية ولو أتمه خرج عن عهدة ما لزمه بذلك الشروع. هكذا في فتح القدير وقد أساء ولا شيء عليه. كذا في شرح الطحاوي... تسعة أوقات يكره فيها النوافل وما في معناها لا الفرائض.(الفتاوى الهندية، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقیت، الفصل الثالث: في بیان الأوقات التي لا تجوز فیها الصلاۃ...، ج:1، ص:52)
(وكره نفل) قصدا ولو تحية مسجد [وقال ابن عابدین تحته:] (قوله: وكره نفل إلخ) شروع في النوع الثاني من نوعي الأوقات المكروهة وفيما يكره فيها، والكراهة هنا تحريمية أيضا كما صرح به في الحلية ولذا عبر في الخانية والخلاصة بعدم الجواز، والمراد عدم الحل لا عدم الصحة كما لا يخفى... وقوله:(ولو تحية مسجد) أشار به إلى أنه لا فرق بين ما له سبب أو لا كما في البحر خلافا للشافعي فيما له سبب كالرواتب وتحية المسجد ط.(رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، ج:1، ص:374)
(هي خمسة اثنان نهي عنهما لاجل الفعل وهى بعد صلاة الصبح حتى تطلع الشمس وبعد صلاة العصر حتي تغرب الشمس... وثلاثة نهى عنها لاجل الوقت وهى عند طلوع الشمس حتي ترتفع وعند الاستواء حتى تزول وعند الاصفرار حتي تغرب.)(المجموع شرح المهذب، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ التطوع، باب الساعات التي نهى عن الصلاۃ فیها، ج: 4، ص: 164)
قال المصنف رحمه الله: (ولا يكره في هذه الاوقات ما لها سبب كقضاء الفائتة والصلاة المنذورة وسجود التلاوة وصلاة الجنازة وما اشبها لما روى عن قيس بن قهد رضي الله عنه قال " رآني رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا أصلى ركعتي الفجر بعد صلاة الصبح فقال ما هاتان الركعتان فقلت لم اكن صليت ركعتي الفجر فهما هاتان الركعتان " فان دخل المسجد في هذه الاوقات ليصلي التحية لا لحاجة غيرها ففيه وجهان. (المجموع شرح المهذب، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ التطوع، باب الساعات التي نهى عن الصلاۃ فیها، ج: 4، ص: 168)
وأما تحية المسجد فقال أصحابنا إن دخله لغرض كاعتكاف أو لطلب علم أو انتظار صلاة ونحو ذلك من الأغراض صلى التحية وإن دخله لا لحاجة بل ليصلي التحية فقط وجهان (أرجحهما) الكراهة كما لو تعمد تأخير الفائتة ليقضيها في هذه الأوقات فإنه يكره لقوله صلى الله عليه وسلم " لا تتحروا بصلاتكم طلوع الشمس ولا غروبها.(المجموع شرح المهذب، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ التطوع، باب الساعات التي نهى عن الصلاۃ فیها، ج: 4، ص: 170)
تنبيه: هل المراد بالمتقدم [أي:السبب المتقدم] وقسيميه [أي: السبب المتاخر والسبب المقارن] بالنسبة إلى الصلاة كما في المجموع أو إلى الأوقات المكروهة كما في أصل الروضة؟ رأيان أظهرهما كما قاله الإسنوي الأول وعليه جرى ابن الرفعة فعليه صلاة الجنازة ونحوها كركعتي الطواف سببها متقدم، وعلى الثاني قد يكون متقدما وقد يكون مقارنا بحسب وقوعه في الوقت، ومحل ما ذكر إذا لم يتحر به وقت الكراهة ليوقعها فيه وإلا بأن قصد تأخير الفائتة أو الجنازة ليوقعها فيه، أو دخل المسجد وقت الكراهة بنية التحية فقط، أو قرأ آية سجدة ليسجدها فيه ولو قرأها قبل الوقت لم تصح للأخبار الصحيحة كخبر: «لا تحروا بصلاتكم طلوع الشمس ولا غروبها».[قال البجیرمي تحته:] (فقط) خرج بذلك ما لو دخل لغرض غير التحية أو لغرضهما.(حاشية البجيرمي على الخطيب = تحفة الحبيب على شرح الخطيب، کتاب الصلاۃ، فصل في بیان الأوقات التي تکرہ فیها الصلاۃ بلا سبب، ج:2، ص:117)
ولا يعلم خلاف بين الفقهاء في كراهة التطوع المطلق في هذه الأوقات(أي: الثلاثة)... وأجاز الشافعية صلاة الكسوف وتحية المسجد إذا دخل المسجد لا لغرض أن يصليها، بأن دخل المسجد لقضاء حاجة، ثم صلى تحية المسجد.(الموسوعة الفقهية الكويتية، أوقات الصلاۃ، أوقات الکراهة، ج:7، ص:181)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں