بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مسجد میں گزرنےاوراس کو راستہ بنانے کاحکم


سوال

اگرایک جگہ تک پہنچنےکےلیےدوراستےہوں ایک مسجد کےحدودسےہوکر گزرتاہولیکن یہ راستہ جائےنمازکی بجائے صحن مسجد میں ہو اور دوسرا راستہ مسجد سےباہرہو،لیکن مسجد والا راستہ دوسرے راستے سے مختصرہو،توکیامسجدوالےراستےسےگزرناجائزہےجبکہ وہ راستہ جائےنماز سے علیحدہ ہے، نیز احناف کےنزدیک "مرورفی المسجد"کی کراہت کاحکم  صرف مسجد میں گزرنےکی صورت میں ہےیا مسجد کوراستہ بنانےکی صورت میں ہے؟

جواب

واضح رہےکہ احناف کےنزدیک اگرکوئی  مسجد کی حدودمیں بغیر ضرورت کے گزرتاہےتویہ مکروہ ہے،چاہےیہ گزرناجائےنمازمیں ہویااس کےعلاوہ صحن مسجد میں ہو،اوراگرکوئی مسجد میں گزرنےکاعادی ہوجائےیابغیرضرورت کےاس کو راستہ بنائےتووہ گناہ گارہوگانیزیہ عمل موجب فسق ہے، البتہ بوقت ضرورت مسجد پرسےگزرنےکی اجازت ہےلیکن بہتریہ ہےکہ جائے نماز کےعلاوہ صحن مسجدیااطراف مسجد وغیرہ میں گزرے، تاکہ مسجد کی حرمت اورتقدس متاثر نہ ہو۔

صورت مسئولہ کےمطابق مطلوبہ جگہ تک پہنچنےکےلیےمسجد پرسےگزرنا مکروہ ہےاگرچہ صحن مسجد میں ہی کیوں نہ ہو،کیونکہ ضرورت متحقق نہیں ہے،نیز یہ کراہت صرف راستہ بنانےکی صورت میں ہی نہیں بلکہ ویسےبھی بغیر ضرورت کےمسجد پرسے گزرنامکروہ ہے،البتہ راستہ بنانےکی صورت میں یہ عمل مکروہ ہونےکےساتھ ساتھ موجب اثم وفسق بھی ہے۔

 

(كما جاز جعل) الإمام (الطريق مسجدا لا عكسه) لجواز الصلاة في الطريق لا المرور في المسجد.[قال ابن عابدین تحته: ](قوله: لجواز الصلاة في الطريق) فيه: أن الصلاة في الطريق مكروهة كالمرور في المسجد، فالصواب لعدم جواز الصلاة في الطريق كما قدمناه عن جامع الفصولين يعني أن فيه ضرورة وهي أنهم لو أرادوا الصلاة في الطريق لم يجز فكان في جعله مسجدا ضرورة، بخلاف جعل المسجد طريقا لأن المسجد لا يخرج عن المسجدية أبدا فلم يجز لأنه يلزم المرور في المسجد، ولا يخفى في أن المتبادر من هذا كون المراد مرور أي مار ولو غير جنب، وهذا يؤيد أن هذا قول آخر، وقد علمت ترجيح خلافه وهو جواز جعل شيء منه مسجدا وتسقط حرمة المرور فيه للضرورة لكن لا تسقط عنه جميع أحكام المسجد، فلذا لم يجز المرور فيه لجنب ونحوه كما مر فافهم.(رد المحتار، کتاب الوقف، مطلب في الوقف إذا خرب ولم یمکن عمارته، ج:4، ص:379)

نعم تعارف الناس المرور في مسجد له بابان، وقد قال في البحر وكذا يكره أن يتخذ المسجد طريقا، وأن يدخله بلا طهارة اهـ. نعم يوجد في أطراف صحن الجوامع رواقات مسقوفة للمشي فيها وقت المطر ونحوه لأجل الصلاة أو للخروج من الجامع لا لمرور المارين مطلقا كالطريق العام، ولعل هذا هو المراد فمن كان له حاجة إلى ‌المرور ‌في ‌المسجد يمر في ذلك الموضع فقط ليكون بعيدا عن المصلين؛ وليكون أعظم حرمة لمحل الصلاة فتأمل.(رد المحتار، کتاب الوقف، مطلب في الوقف إذا خرب ولم یمکن عمارته، ج: 4، ص: 378)

وعلم من هذه المسألة أن المسلم الطاهر من الجنابة إذا اعتاد المرور في المسجد لينظر ما فيه من العبادة أو قرآن أو ذكر أو ليذكره بالصلاة لا يأثم ولا يفسق وقولهم " معتاد المرور يأثم ويفسق " محمول على ما إذا اعتاد ذلك من غير استحلال الدخول، أو جعله طريقا من غير ضرورة والدليل على هذا التفصيل وصفه بالإثم والفسق اهـ.(البحر الرائق شرح كنز الدقائق، کتاب الکراهية، فصل في البیع، بیع بناء بیوت مکة أو أراضیها، ج: 8، ص: 232)


فتویٰ نمبر : 6320/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں