بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

اجارہ پر دی ہوئی زمین کا سیلاب کی وجہ سے ہلاک ہو جانا


سوال

اگر کوئی شخص کسی زمیندار سے ایک کھیت اجارہ پر لے اور اس میں خود محنت سے فصل بوئے، اور جب فصل تیار ہونے کے قریب ہو، تو اچانک قدرتی آفت جیسے سیلاب کی وجہ سے مکمل کھیت تباہ ہو جائے، اور اجارہ دار کو اس کھیت سے کوئی مالی فائدہ نہ ہو پائے، تو کیا ایسی صورت میں شرعاً زمیندار (مالکِ زمین) کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اجارہ دار سے کھیت کے اجارے کی مکمل رقم کا مطالبہ کرے، جب کہ اجارہ دار کو نہ فصل حاصل ہوئی اور نہ ہی اس سے کوئی نفع پہنچا؟

جواب

  واضح رہے کہ جب عقدِ اجارہ صحیح ہو، فاسد نہ ہو، اور مالک، کرایہ دار کو شیءِ مستاجرہ حوالہ کر کے اس سے فائدہ اٹھانے پر قدرت دیدے، تو کرایہ دار پر کرایہ لازم ہو جاتا ہے، خواہ وہ اس چیز سے فائدہ اٹھائے یا نہ اٹھائے۔ البتہ اگر کوئی ایسا عارض پیش آئے جس کی وجہ سے اس چیز (شیءِ مستاجرہ ) سے فائدہ اٹھانا بالکل ممکن نہ رہے،جیسے: کرایہ پر لی ہوئی زمین کسی آفت سماوی کی وجہ سے ہلاک ہو جائے،تو اس میں تفصیل ہےاگر فصل  کاشت کر نے سے پہلے زمین  ہلاک ہو جائے،تو کرایہ دار پر کوئی اجرت لازم نہ ہو گی ،البتہ اگر فصل کاشت کر نے کے بعد زمین ہلاک ہو جائے، تو کرایہ دار کے ذمے کرایہ دینا لازم ہو گا ،تاہم  زمین ہلاک ہو نے کے بعد جو مدت باقی ہو ،اس کی اجرت کرایہ دار پر لازم نہ ہو گی ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر مالک زمین نے  زمین  کو کرایہ دار کے حوالہ کر کے اس سے فائدہ اٹھانے پر قدرت دی ہو اور اس کے بعد وہ زمین کاشت کر نے کےبعد سیلاب کے زد میں آنے کی وجہ سے ہلاک ہو جائے،تو شرعا ایسی صورت میں کرایہ دار پرپوراکرایہ  ادا  کر نا لازم ہوگا،  البتہ سیلاب کی وجہ  سے زمین ہلاک ہو نے کے بعد جو مدت باقی ہواوراس زمین کا قابل انتفاع بنا نا ممکن نہ ہو،توشرعا اس کی اجرت کرایہ دار پر لازم نہ ہو گی ۔تاہم مالک زمین کو چاہیے کہ ایسی صورت میں کرایہ دار سے ہمدردی اور آسانی کا معاملہ کرے۔

 

وإن استأجر أرضا فغرقت قبل أن يزرعها فمضت المدة فلا أجر عليه كما لو غصبها غاصب، وإن زرعها فأصاب الزرع آفة فهلك الزرع أو غرقت بعد الزرع ولم ينبت عن محمد - رحمه الله تعالى - في رواية كان عليه الأجر كاملاوالمختار للفتوى أنه إن هلك الزرع لم يكن عليه لما بقي من المدة بعد هلاك الزرع أجر. ( الفتاوى الهندية،كتاب الإجارة، الباب التاسع عشرفي فسخ الإجارة بعذر، ج:4، ص:462 )

تلزم الأجرة أيضا في الإجارة الصحيحة بالإقتدار على استيفاء المنفعة، مثلا: لو استأجر أحد دارا بإجارة صحيحة فبعد قبضها يلزمه إعطاء الأجرة وإن لم يسكنها).شرح المجلة، خالد الأتاسی، کتاب الإجارات،ج:2،ص:554،مادة:470 )


فتویٰ نمبر : 3833/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں