بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قبضہ سے پہلے کسی چیز کو آگے ادھار پر بیچنا


سوال

اگر کوئی شخص کسی چیز کو ادھار خریدتا ہے لیکن ابھی اس پر قبضہ حاصل نہیں کرتا اور پھر وہی چیز کسی تیسرے شخص کو ادھار پر فروخت کر دیتا ہے، تو کیا شریعت کی رو سے ایسی بیع جائز ہوگی یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ جس چیز کی خرید وفروخت ہو رہی ہووہ عقد کے وقت بائع (فروخت کنندہ) کی ملکیت اورقبضہ میں ہو نا ضروری ہے۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی آدمی کسی چیز کو ادھار خرید کر قبضہ سے پہلے آگے کسی اور شخص کو بیچ دے،تو شرعا یہ جائز نہ ہو گا،البتہ اگروہ چیز قبضہ میں لی جائے اس کے بعد اگر اسے آگے ادھار پر بیچ دے،تو شرعا اس طرح بیچنا جائز ہو گا۔

 

عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من ابتاع طعاما، فلا يبعه حتى يستوفيه، قال ابن عباس:وأحسب كل شيء مثله. )‌‌الصحیح لمسلم،كتاب البيوع،‌‌باب بطلان بيع المبيع قبل القبض،ج:2،ص:31،حدیث رقم:1525(.

قال رحمه الله:(لا بيع المنقول) أي لا يجوز بيع المنقول قبل القبض لما روينا ولقوله عليه الصلاة والسلام «إذا ابتعت طعاما فلا تبعه حتى تستوفيه» رواه مسلم وأحمد؛ ولأن ‌فيه ‌غرر ‌انفساخ ‌العقد على اعتبار الھلاك قبل القبض؛ لأنه إذا هلك المبيع قبل القبض ينفسخ العقد فيتبين أنه باع ما لايملك والغررحرام لما روينا." (تبیین الحقائق،باب التولية،فصل بیع العقارقبل قبضه ج:4،ص:438)

"الثاني: أن يبيع منه متاعا لا يملكه ثم يشتريه من مالكه ويدفعه إليه وهذا باطل لأنه باع ما ليس في ملكه وقت البيع، وهذا معنى قوله: قال (‌لا ‌تبع ‌ما ‌ليس ‌عندك) أي شيئاليس في ملكك حال العقد۔ (مرقاةالمفاتيح،کتاب البيوع،باب المنھي عنھا،ج:6،ص:88)


فتویٰ نمبر : 3832/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں