بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قیام کی حالت میں تشہدپڑھنےسےسجدۂ سہو


سوال

اگر کوئی  شخص فرض نماز کی پہلی رکعت میں بھول کر سورۃ فاتحہ کی بجائے تشہد (التحیات) پڑھ لے، اور اُسے دورانِ قراءت فوراً یہ خطا یاد آ جائے، تو وہ سورۃ فاتحہ پڑھ کر نماز مکمل کر لے، تو کیا ایسی صورت میں سجدہ سہو لازم ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہےکہ قیام نمازمیں ثنااورقراءت کامحل ہے،اسی وجہ سےحضرات فقہاءرحمہم اللہ فرماتےہیں کہ اگرنمازی قیام میں سورۃفاتحہ سےپہلےتشہّدپڑھ لے،تواس سےسجدۂ سہولازم نہیں ہوتا،کیوں کہ تشہّدبھی ثناہے،البتہ اگرسورۃفاتحہ کےبعدسورۃملانےسےپہلےتشہّدپڑھ لے،توچونکہ اس سےواجب(سورۃملانے)میں تاخیرلازم آتی ہے،لہذااس صورت میں سجدۂ سہولازم ہوگا۔

صورتِ مسؤلہ کےمطابق اگرکوئی شخص فرض نماز کی   پہلی رکعت کے لیے کھڑے ہو کر بھول سےسورۃ فاتحہ کی بجائےتشہد پڑھنا شروع کرے اوریادآنےپر سورۃ فاتحہ پڑھناشروع کرے،تواس پرسجدۂ سہولازم نہیں۔

 

 ولو قرأ التشهد في القيام إن كان في الركعة الأولى لا يلزمه شيء وإن كان في الركعة الثانية اختلف المشايخ فيه والصحيح أنه لا يجب كذا في الظهيرية ولو تشهد في قيامه قبل قراءة الفاتحة فلا سهو عليه وبعدها يلزمه سجود السهو وهو الأصح لأن بعد الفاتحة محل قراءة السورة فإذا تشهد فيه فقد أخر الواجب وقبلها محل الثناء(الفتاوی الھندیة،کتاب الصّلوۃ،الباب الثّانی عشر فی سجودِالسھو،ج:1ص:186)


فتویٰ نمبر : 10576/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں