بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دو بیویوں میں مساوات


سوال

ایک شخص کی دو بیویاں ہیں ایک انگلینڈ میں اس کے ساتھ ہے اور دوسری پاکستان میں ہے، دونوں کو انگلینڈ لے جانے میں مشکلات ہیں، نیز جتنا وقت وہ انگلینڈ میں گزارتا ہے اتنا ہی وقت پاکستان میں گزارنا بھی مشکل ہے، اب وہ دونوں بیویوں میں عدل کے حوالے سے کیا کرے تاکہ اللہ کے ہاں ماخوذ نہ ہو؟

جواب

 جو شخص ایک سے زائد عورتوں سے نکاح کرے اس پر اختیاری امور میں ان کے مابین عدل ومساوات قائم رکھنا واجب ہے، مثلاً: رہائش، کھانا پینا، رات گزارنا اور وقت دینا وغیرہ، جبکہ غیر اختیاری امور میں مساوات کا پابند نہیں، مثلاً: جماع اور محبت رکھنا وغیرہ۔

صورتِ مسؤلہ میں  جس شخص کی دو بیویاں ہیں، ایک انگلینڈ میں اور دوسری پاکستان میں مقیم ہے، تو اس شخص پر لازم ہے کہ ممکنہ حد تک دونوں بیویوں کے ساتھ وقت گزارنے میں برابری کی کوشش کرے، اگر دونوں بیویوں کو انگلینڈ لے جانے میں مشکلات ہیں تو بہتر ہے کہ دونوں کو پاکستان میں  یکساں طور پر رہائش فراہم کرے۔ اسی طرح نان و نفقہ (رہائش، خوراک، لباس اور دیگر ضروریاتِ زندگی) کی فراہمی میں بھی برابری کا خیال رکھے۔ بہرحال شوہر پر لازم ہےکہ اپنی استطاعت کے مطابق عدل ومساوات قائم رکھنے کی پوری کوشش کرے اور کمی کوتاہی ہوتواس کی معافی طلب کرے ۔

 

عن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقسم فيعدل، ويقول: "اللهم ‌هذا ‌قسمي ‌فيما ‌أملك، فلا تلمني فيما تملك ولا أملك" قال أبو داود: يعني القلب. (سنن أبي داؤد، كتاب النكاح، باب فى القسم بين النساء، رقم الحديث:2134 ، ج:3، ص:470)

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا كانت عند الرجل امرأتان فلم يعدل بينهما جاء يوم القيامة وشقه ساقط». (سنن الترمذي، أبواب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب ما جاء في التسوية بين الضرائر،رقم الحديث:1141، ج:2، ص:443)

‌فإن ‌كان ‌له ‌أكثر ‌من ‌امرأة، ‌فعليه ‌العدل بينهن في حقوقهن من القسم والنفقة والكسوة، وهو التسوية بينهن في ذلك حتى لو كانت تحته امرأتان حرتان أو أمتان يجب عليه أن يعدل بينهما في المأكول والمشروب والملبوس والسكنى والبيتوتة. والأصل فيه قوله عز وجل {فإن خفتم ألا تعدلوا فواحدة} [النساء: 3] عقيب قوله تعالى {فانكحوا ما طاب لكم من النساء مثنى وثلاث ورباع} [النساء: 3] أي: إن خفتم أن لا تعدلوا في القسم والنفقة في نكاح المثنى، والثلاث، والرباع، فواحدة ندب سبحانه وتعالى إلى نكاح الواحدة عند خوف ترك العدل في الزيادة، وإنما يخاف على ترك الواجب، فدل أن العدل بينهن في القسم والنفقة واجب. (بدائع الصنائع، كتاب النكاح، فصل وجوب العدل بين النساء في حقوقهن، ج:3، ص:608)

ولا قسم على الزوج إذا سافر حتى لو سافر بإحداهما، وقدم من السفر، وطلبت الأخرى أن يسكن عندها مدة السفر، فليس لها ذلك؛ لأن مدة السفر ضائعة بدليل أن له أن يسافر وحده دونهن. (بدائع الصنائع، كتاب النكاح، فصل وجوب العدل بين النساء في حقوقهن، ج:3، ص:611)


فتویٰ نمبر : 7199/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں