بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

نماز تہجد کے دوران فجر کا وقت داخل ہونے کی صورت میں ادائیگی کا حکم


سوال

اگر کسی شخص نے تہجد کی نماز شروع کی، اور ایک رکعت مکمل کرنے کے بعد فجر کا وقت داخل ہو گیا اور اذان شروع ہوگئی، تو کیا وہ باقی رکعت مکمل کرے گا یا فوراً سلام پھیر دے؟ نیز اگر وہ نماز مکمل کرلے تو کیا یہ نماز تہجد شمار ہوگی یا فجر کی سنتیں؟

جواب

واضح رہے کہ تہجد کی نماز کا وقت عشا کی نماز کے بعد سے لے کرصبح صادق (فجر کا وقت داخل ہونے) تک رہتا ہے، البتہ رات کےآخری حصے میں تہجد کی نماز ادا کرنا افضل اور زیادہ باعثِ فضیلت ہے، نیزاگر کوئی شخص تہجد کی نماز شروع کرے اور دوسری رکعت میں طلوع فجر ہو جائے تو وہ دوسری رکعت بھی پوری کرلے، اور اس کی یہ نماز نفل شمار ہوگی۔ البتہ اگر دونوں رکعتیں غلط فہمی میں طلوع فجر کے بعد پڑھی ہوں، یا تہجد کی نماز چار رکعتوں کی نیت سےشروع کی ہو، اور آخری شفع (دو رکعت) ادا کرنے سے پہلےطلوعِ فجر ہوجائے، تو باقی دو رکعتیں فجر کی سنت شمار ہوں گی، لہذا ایسی صورت میں دوبارہ فجر کی سنتیں نہ پڑھے۔

 

ومن صلى تطوعا في آخر الليل فلما صلى ركعة طلع الفجر كان الإتمام أفضل؛ لأن وقوعه في التطوع بعد الفجر لا عن قصد ولا تنوبان عن سنة الفجر على الأصح. هكذا في السراج الوهاج والتبيين. ولو شرع أربعا فالشفع الذي بعد الطلوع ينوب عن سنة الفجر هو المختار. (الفتاوى الهندية، كتاب الصلوة، الباب الأول في مواقيت الصلوة، الفصل الثالث في بيان الأوقات التي لا تجوز فيها الصلوة وتكره فيها، ج:1، ص:52-53)

من صلى تطوعا في آخر الليل فلما صلى ركعة طلع الفجر كان الإتمام أفضل؛ لأن وقوعه في التطوع بعد طلوع الفجر لا عن قصد قال في الفتاوى ولا ينوبان عن سنة الفجر على الأصح، ‌ولو ‌صلى ‌ركعتين وهو يظن أن الفجر لم يطلع ثم تبين أنه قد طلع فإنه يجزئه عن ركعتي الفجر ولا ينبغي أن يعيد. (الجوهرة النيرة على مختصر القدوري، كتاب الصلاة، باب النوافل، ج:1،ص:70)


فتویٰ نمبر : 10574/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں