بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سونےکی زکوٰۃ میں قیمتِ فروخت کا اعتبار


سوال

ایک شخص کے پاس آٹھ تولہ سونا موجود ہے، جو نصاب سے زیادہ ہے، لہٰذا اس پر زکوٰۃ واجب ہے۔ اب وہ سونے کی زکوٰۃ پیسوں (نقد رقم)کی صورت میں ادا کرنا چاہتا ہے، لیکن مارکیٹ میں سونے کی دو طرح کی قیمتیں رائج ہیںایک وہ قیمت جس پر صراف سونا فروخت کرتے ہیں، اور دوسری وہ قیمت جس پر صراف عام صارفین سے سونا خریدتے ہیں۔ ان دونوں قیمتوں میں خاصا فرق پایا جاتا ہے، مثلاً موجودہ وقت میں صراف فی تولہ سونا تقریباً 360000 روپے میں فروخت کررہاہے، جبکہ صرافین آپ سے تقریباً 280000 روپے میں خریدتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ سونے کی زکوٰۃ نقد رقم کی صورت میں ادا کرتے وقت کس قیمت کو بنیاد بنایا جائے؟ کیااس قیمت کے حساب سے زکوٰۃ دی جائے گی جس قیمت پہ صرافین سونا فروخت کرتے ہیں، یا اس قیمت کے مطابق جس پہ صرافین عام صارف سےسونا خریدتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ زیور، سونا اور چاندی کی زکوٰۃ اگر کرنسی اور نقدی کی صورت میں ادا کی جائے تو ان کی قیمت لگائی جائے گی۔ اگر عام صارف سونے کی زکوٰۃ قیمت سے ادا کررہا ہے، تواس میں وہ قیمت معتبر ہوگی، جس پر صراف صارف سے زیور خریدتا ہے۔ یعنی جس دن وہ زکوٰۃ ادا کرتا ہے اس دن وہ سونا جس قیمت پرمارکیٹ میں فروخت ہوسکتا ہے، اس کا چالیسواں حصہ بطورِ زکوٰۃ اداکیا جائے گا۔

صورتِ مسؤلہ میں اگر کسی عام صارف کے پاس آٹھ تولہ سونا موجودہو، اور وہ نقدی کی صورت میں زکوٰۃ اد اکرنا چاہے، تو وہ اس قیمت کے اعتبار سے زکوٰہ ادا کرے گا جس پر صراف عام صارف سے سونا خریدتے ہیں۔ یعنی جس دن وہ زکوٰۃ ادا کر رہا ہے، اس دن صراف اس سے یہی سونا جس قیمت پر خریدے گا، اس قیمت کا چالیسواں حصہ بطورِ زکوٰۃ ادا کرنا ہوگا۔

 

وتعتبر ‌القيمة ‌يوم ‌الوجوب، وقالا يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه.[وفي الشامية تحته:] وفي المحيط: يعتبر يوم الأداء بالإجماع وهو الأصح اهـ فهو تصحيح للقول الثاني الموافق لقولهما، وعليه فاعتبار يوم الأداء يكون متفقا عليه عنده وعندها. (ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الزكاة، باب زكاة الغنم، ج:2، ص:286)

‌لأن ‌الواجب ‌الأصلي ‌عندهما هو ربع عشر العين وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا. (بدائع الصنائع، كتاب الزكاة، فصل أموال التجارة، فصل صفة الواجب في أموال التجارة، ج:2، ص:22)

والخلاف في زكاة المال ‌فتعتبر ‌القيمة ‌وقت ‌الأداء في زكاة المال على قولهما وهو الأظهر وقال أبو حنيفة يوم الوجوب كما في البرهان. (درر الحكام شرح غرر الأحكام، كتاب الزكاة، باب زكاة المال، ج:1، ص:181)


فتویٰ نمبر : 10573/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں