بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 23/10/2026 |
دارالافتاء
غیر موقوفہ قبرستان میں تصرف کرنا
سوال
ایک شخص نے قبرستان کے لیے جگہ چھوڑی تھی لیکن مستقل وقف نہیں کی تھی،تقریباً100 سال ہوئے لیکن ابھی تک اس قبرستان میں کسی میت کی تدفین نہیں ہوئی ،اب اس قبرستان میں تصرف کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ محض نیت وارادہ سےکوئی چیز وقف نہیں ہوتی ،وقف تام ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ موقوفہ چیز جس مقصد کے لیے وقف کی گئی ہو اس میں کم از کم ایک مرتبہ استعمال ہو جائے ،چنانچہ قبرستان کے لیے وقف کی گئی زمین کا وقف اس وقت تام متصور ہو گا جب اس میں میت دفن ہوجاناشروع ہو جائے ۔چنانچہ ایسی زمین جو قبرستان کے لیے چھوڑی گئی ہو لیکن اس میں میت دفنانا شروع نہ ہوا ہوتو وقف تام نہ ہونے کی وجہ سےاس میں تصرف کی اجازت ہے۔
لہذاصورت مسئولہ میں اگر زمین صرف قبرستان کی نیت سے چھوڑی گئی تھی لیکن اس میں کوئی میت دفن نہیں ہوئی ہوتو شرعاًیہ زمین مملوک متصور ہوگی،لہذامالکان کے لیے اس میں تصرف جائز ہے۔
الوقف إخراج المال عن الملك علی وجه الصدقة، فلایصح بدون التسلیم کسائر التصرفات. (بدائع الصنائع، کتاب الوقف والصدقة،فصل في شروط الجواز،ج:8،ص:394 )
وعند محمد لا يزول ملك الواقف إلا بالتسليم إلى المتولي أو إلی الموقوف عليه...... حتی أن علی قوله لو لم يسلم الوقف إلی المتولى لا يزول عن ملكه فله أن يرجع فى ذلك وإذا مات يورث عنه. (الفتاوى التاتارخانية،كتاب الوقف ، الفصل الثاني ،ج:8 ،ص:11،10)
والحاصل:أن التسليم على قول من يشترط التسليم وهو قول من يشترط التسليم وهو قول محمد يكون بإحدي طريقتين: إما بإثبات اليد للقيم عليها أو لحصول المقصود وذلك في السكنى في مسألة الدار وبالنزول في مسألة الخان وبالدفن في مسألة المقبرة وماأشبه ذلك. (الفتاوى التاتارخانية،كتاب الوقف،الفصل الثاني والعشرون ،ج:8،ص:185)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں