بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

بچپن میں دادا کے کیے ہوئے رشتے سے انکار کرنا


سوال

ہمارے والد نے ایک بیٹے کی بیٹی کا دوسرے بیٹے کے بیٹے کے لیے بچپن ہی میں فیصلہ کردیا تھا ، کہ یہ اس کو نکاح میں دی جائے گی ، اب وہ لڑکی بالغہ ہے اور اس لڑکے سے نکاح نہیں کرنا چاہتی ، تو کیا دادا کا کیا گیا فیصلہ ماننا اب لازم ہے اور اس لڑکی کے انکار کے باوجود اس لڑکے سے نکاح کروایا جائے یا پھر لڑکی کی مرضی کا خیال رکھ کر وہاں سے انکار کردیا جائے؟

جواب

واضح رہے کہ بچپن میں رشتہ طے کرنا یا کسی لڑکی کو لڑکے کے نام کرنا  محض وعدہ نکاح ہوتا ہے  جب تک باقاعدہ   گواہوں کی موجودگی میں  ایجاب و قبول نہ ہوا ہو، اس لیے اگر وہ لڑکا یا لڑکی  بڑے ہو کر اس طے شدہ رشتے سے انکار کریں تو  جبراً نکاح کرانے کی شرعا گنجائش نہیں  ہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق دادا کا اپنے ایک بیٹے کی بیٹی کو دوسرے بیٹے کے بیٹے کے نام کرنے سے نکاح  منعقد نہیں ہوا، بلکہ یہ محض  نکاح کا وعدہ تھا، اس لیے اگر لڑکی بالغ ہونے کے بعد اس رشتے پر راضی نہیں ہے تو کوئی اس پرزبردستی نہیں کر سکتا ۔

 

(‌ولا ‌تجبر ‌البالغة ‌البكر ‌على ‌النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ )الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب النكاح ،باب الولي،ج:4،ص:591)

(ومنها) ‌رضا ‌المرأة ‌إذا ‌كانت ‌بالغة ‌بكرا ‌كانت أو ثيبا فلا يملك الولي إجبارها على النكاح عندنا، كذا في فتاوى قاضي خان(الفتاوى الهندية ، كتاب النكاح ، الباب الأول في تفسير النكاح، ج:1، ص:334)

قال في شرح الطحاوي: لو قال ‌هل‌أعطيتنيها فقال أعطيت إن كان المجلس للوعد فوعد، وإن كان للعقد فنكاح. (رد المحتار على الدرالمختار، كتاب النكاح،ج: 4، ص: 72)


فتویٰ نمبر : 7200/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں