بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قبروں پر پھول اور ہار چڑھانا


سوال

قبروں پر پھولوں اور ہار چڑھانا شرعی طور پر کیسا ہے؟

جواب

جو عمل رسول اللہ ﷺ سے قولا،فعلا یا تقریراثابت ہواسی طرح  صحابہ رضوان اللہ اجمعین سے ثابت ہوتو ایسے عمل کااپنانا باعث اجر وثواب ہے،اور جو عمل نبی علیہ السلام اور صحابہ سے ثابت نہ ہو تو اس عمل سے احتراز کرنا چاہئے۔

 لہذا صورت مسؤلہ میں قبر وں پر پھول ڈالنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم،صحابہ کرام، سے ثابت نہیں ہے، اس لیے  قبر پر پھول ڈالنا درست نہیں ہے، بلکہ پھول کے بجائے یہ رقم صدقہ وخیرات کرکے میت کو ثواب پہنچادے، یہ زیادہ بہتر ہے، تاکہ میت کو بھی فائدہ ہو اور رقم بھی ضائع نہ ہو۔

 

ولهذا أنكر الخطابي ومن تبعه وضع الجريد اليابس، وكذلك ما يفعله أكثر الناس من وضع ما فيه رطوبة من الرياحين والبقول ونحوهما على القبور ليس بشيء۔ (عمدة القاري شرح صحيح البخاري،کتاب الوضوء،باب ما جاء في غسل البول،ج:3،ص:161)


فتویٰ نمبر : 6327/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں