بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

اشتہار کے ذریعے آمدنی کا حکم


سوال

بعض لوگ سوشل میڈیا پر کسی کمپنی کے اشتہارات چلاتے ہیں، اور اس کے بدلے انہیں کمپنی کی طرف سے پیسے ملتے ہیں۔ شرعی لحاظ سے یہ معاملہ کیسا ہے؟

جواب

واضح رہےکہ اگرکوئی شخص سوشل میڈیاپرکسی کےاشتہارات چلا نےکا معاہدہ کرےتو یہ شخص اجرت پر کام کرنےوالا شمار ہوگااس میں ضروری ہے کہ  اشتہارات میں حرام چیزوں کی تشہیر،خواتین کی تصاویراور میوزک نہ ہو توایسے اشتہارات چلانا اور ان کے ذریعہ پیسہ کمانا جائز ہو گا، لیکن اگر   اشتہارات میوزک  یا کسی اور ناجائز و حرام بات پر مشتمل  ہوں تو چونکہ ان چیزوں کے بنانے کی طرح ان کی ترویج اور تشہیر بھی شرعاً نا جائز ہے؛ اس لیے ایسے اشتہارات اپنی ویب سائٹ پر لگانا گناہ کے کام میں معاونت ہو گا، جوکہ ناجائز ہے۔

 

 (والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير واحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل (الدرالمختارشرح تنويرالأبصار،كتاب الإجاره باب ضمان الأجير،ص:583)

 


فتویٰ نمبر : 3841/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں