بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

بغیر شہوت کسی عورت کو چھونے سے حرمتِ مصاہرت


سوال

میرے والد صاحب جن کی عمر 75 سال ہے انہوں نے میری اہلیہ کے کندھے اور ان کے سینے پر ہاتھ لگایا لیکن ان کا بیان یہ ہے کہ یہ ہاتھ لگاتے وقت میری کوئی شہوت نہیں تھی اور نہ ہی میرے مخصوص اعضا میں کوئی انتشار محسوس ہوا تو سوال یہ ہے کہ کیا اس صورتحال میں حرمت مصاہرت ثابت ہوئی ہوئی ہے یا نہیں؟

مزید وضاحت کے لیے موصوف سے خود بھی بیان لیا گیا تو ان کا بیان بھی یہی تھا کہ اگرچہ یہ میں نے ایک غلط  حرکت کی جس کا مجھے اعتراف ہے البتہ یہ عمل سرزد ہوتے وقت مجھے کسی قسم کی کوئی شہوت نہیں تھی اور نہ ہی مجھے اس دوران کوئی انتشار محسوس ہوا اب سوال یہ ہے کہ کیا اس صورتحال میں بیٹے بہو کے رشتے پر کوئی اثر پڑا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگرکوئی شخص کسی مشتہاۃ عورت کو بغیر حائل کے یا ایسے باریک حائل کے ساتھ کہ جس سے بدن کی حرارت محسوس ہوتی ہو،شہوت کے ساتھ مس کرےیا  پہلے سے موجود  شہوت میں اضافہ ہوجائے اور ساتھ  ہی ممسوسہ عورت کی طرف  میلان(رغبت جماع)بھی پیداہو جائےتو اس سے  ان کے درمیان حرمت مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے اور ان پر ایک دوسرے کے اصول وفروع حرام ہوجاتے ہیں،لیکن اگر بغیرشہوت کے مس کرے یا شہوت کے ساتھ ہو ،لیکن درمیان میں اتنا بڑا حائل موجود ہو کہ جس سے بدن کی حرارت محسوس نہ ہوتی ہو یا پہلے سے موجود شہوت میں اضافہ نہ ہوا ہو یا اسی عورت کی طرف جماع کامیلان نہ پایا جائےتوپھرحرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی۔

صورت مسؤلہ میں اگر واقعی کندھے پر ہاتھ  رکھنے اورسینے سےہاتھ لگاتے وقت نہ شھوت تھی اور نہ مخصوص عضومیں انتشار   محسوس کیا اور نہ رغبت جماع تھی تو اس سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی ہےاور بیٹے بہو کے رشتےپر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔

 

ثم المس إنمايوجب‌حرمة‌المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب،أما إذاكان بينهماثوب فإن كان صفيقا لا يجد الماس حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته بذلك وإن كان رقيقا بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت، كذا في الذخيرة...ويشترط أن تكون المرأة مشتهاة، كذا في التبيين.ولو مس فأنزل لم تثبت به حرمة المصاهرة في الصحيح؛لأنه تبين بالإنزال أنه غير داع إلى الوطيء.(الفتاوى الهندية،كتاب النكاح،الباب الثالث في بيان المحرمات،ج:1،ص:340،341)

وجعلوا حد ‌الشهوة ‌أن ‌يميل ‌قلبه إليها ويشتهي جماعها.( المحيط البرهاني، كتاب النكاح، ‌‌الفصل الثالث عشر في بيان أسباب التحريم، ج:3، ص:63 )


فتویٰ نمبر : 7198/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں