بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 25/10/2026 |
دارالافتاء
من زار قبري وجبت له شفاعتي، کی تحقیق
سوال
میں نےایک صاحب سےحج کےموقع پرمدینہ جانےکےدوران سناکہ حدیث میں آیا ہے:آپ ﷺنےفرمایا:کہ جس نے میری قبرکی زیارت کی اس کےلیےمیری شفاعت واجب ہوگئی ،کیاایسی کوئی حدیث مستند کتب حدیث میں موجودہےیانہیں؟
جواب
سوال میں مذکور حدیث "من زار قبري وجبت له شفاعتي" شعب الایمان میں امام بیہقی اورسنن دار قطنی نے نقل کیا ہے ۔اس حدیث کے بارے میں دو رائےپائی جاتی ہیں ۔بعض محدثین نے اس حدیث کو موسی ابن ہلال العبدی کی وجہ سے ضعیف قرار دیاہے ، ابن خزیمہ اور امام بیہقی نے اس کو منکر کہا ہے،امام عقیل نےموسیٰ ابن ہلال کے بارے میں کہا ہے کہ اس کی حدیث صحیح نہیں،اس طرح دیگر محدثین نے بھی اس حدیث کی سند پر جرح کیا ہے ۔اس کے علاوہ بعض دیگر محدثین نے صحیح اور حسن قرار دیا ہے چنانچہ امام سبکی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی چند اسناد بیان کرنے اور جرح و تعدیل کے بعد فرماتے ہیں :’’مذکورہ حدیث حسن کا درجہ رکھتی ہے۔ جن احادیث میں زیارتِ قبرِ انور کی ترغیب دی گئی ہے ان کی تعداد دس سے بھی زیادہ ہے، اِن احادیث سے مذکورہ حدیث کو تقویت ملتی ہے اور اِسے حسن سے صحیح کا درجہ مل جاتاہے۔‘‘شرح محمد فؤاد عبد الباقي میں عبد الحق اِشبیلی کااس کو صحیح کہنا ذکرہے۔قاضي عياض نے شرح الشفا میں اس کو نقل کرنے کے بعد فرمایاکہ ائمہ حدیث کی ایک جماعت نے اس کو صحیح کہاہیں،علامہ ذھبی نے کثرت طرق اور شواہد کی وجہ سے حسن کہا ہے۔بہرحال سوال میں مذکور الفاظ حدیث ہی کے الفاظ ہے۔
ثنا القاضي المحاملي، نا عبيد الله بن محمد الوراق ، نا موسى بن هلال العبدي ، عن عبيد الله بن عمر ، عن نافع ، عن ابن عمر ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من زار قبري وجبت له شفاعتي". (سنن دارالقطني،باب المواقيت، ج:3،ص:334،رقم الحديث : 2690)
أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ نا محمد بن موسى الحلواني نا محمد بن إسماعيل بن سمرة نا موسى بن هلال عن عبد الله العمري عن نافع عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:«من زار قبري وجبت له شفاعتي».وقيل عن موسى بن هلال العبدي عن عبيد الله بن عمر... وكذلك رواه الفضل بن سهل عن موسى بن هلال عن عبيد الله وسواء قال: عبيد الله أو عبد الله فهو منكر عن نافع عن ابن عمر لم يأت به غيره. (شعب الايمان،المناسك، فضل العمرةوالحج ،ج:3، ص:490، رقم الحديث:4158)
قال ابن خزيمة في صحيحه في باب زيارة قبر النبي صلى الله عليه وآله وسلم ان ثبت الخبر فان في القلب منه ثم رواه عن الأحمسي كما تقدم وعن عبد بن محمد الوراق عن موسى بن هلال عن عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر رضى الله عنه به وقال بعد انا ابرأ من عهدته هذا الخبر من رواية الاحمس اشبه لان عبيد الله بن عمر أجل واحفظ من ان يروى مثل هذا المنكر(لسان الميزان، حرف الميم، من اسمه موسى ،ج:6،ص:135)
موسى بن هلال سكن الكوفة ، عن عبيد الله بن عمر، ولا يصح حديثه ، ولا يتابع عليه(الضعفاء الكبير للعقيلي، باب الميم،ج4، ص:70،رقم:1744)
ثم إن الأحاديث التي جمعناها في الزيارة,بضعة عشر حديثا ممّا فيه لفظ الزيارة,غير ما يستدلّ به لها من أحاديث أخر,و تضافر الأحاديث يزيدهاقوة,حتى إنّ الحسن قد يرتقي بذلك إلى درجةالصحيح.(شفاءالسقام في زيارة خيرالأنام،ص:100)
(عن ابن عمر) فيما رواه ابن خزيمة والبزار والطبراني وله طرق وشواهد حسنه الذهبي لأجلها قال النبي صلى الله تعالى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ زَارَ قَبْرِي وَجَبَتْ لَهُ شفاعتي" أي حقت وثبتت وفي رواية حلت رواه الدارقطني وغيره وصححه جماعة من أئمة الحديث.(شرح الشفاء ،الباب الرابع :في حكم الصلاة عليه صلى الله تعالى عليه وسلم والتسليم ،فصل:في حكم زيارة قبره صلى الله عليه وسلم وفضيلة من زاره وسلم عليه،ج:2،ص:150)
لقوله صلى الله عليه وسلم (من زار قبري وجبيت له شفاعتي) . رواه الدارقطني وغيره. وصححه عبد الحق.(شرح محمد فؤاد عبد الباقي)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں