بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

میڈیکل انشورنس کارڈ کے ذریعے سے علاج کرنا


سوال

میں ایک  کمپنی  میں ملازم ہوں، اور میری ماہانہ تنخواہ سے پورے سال باقاعدہ طور پر ایک مخصوص رقم "میڈیکل انشورنس کارڈز" کی مد میں کاٹی جاتی ہے۔ یہ کٹوتی ادارہ خود کار نظام کے تحت کرتا ہے اور ملازمین کو اس سے انکار کا اختیار نہیں ہوتا۔ اس انشورنس کے تحت میں نے اپنے والدین، بیوی اور بچوں کو کور (Cover) کر رکھا ہے، اور اس کے ذریعے ہسپتالوں سے مفت علاج، دوائیاں، آپریشن، ٹیسٹ وغیرہ کی سہولت حاصل ہوتی ہے۔ یعنی بیماری کی صورت میں اخراجات انشورنس کمپنی ادا کرتی ہے، ملازم یا خاندان کو نہیں۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا شرعی لحاظ سے اس قسم کی میڈیکل انشورنس، جس میں تنخواہ سے رقم کاٹ کر ادارہ ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جائز ہے یا نہیں؟

جواب

وا ضح رہے آج کل مروجہ انشو رنس  کمپنیوں کے معاملات  چونکہ غیر شرعی امور جیسے ،سود قمار، اور غرر وغیرہ پر مشتمل ہونے کی وجہ سے  حرام  اور ناجائز ہیں، البتہ اگر  کوئی بامر مجبوری شرکت  کرلے تو اس کےلیے اپنی جمع کردہ قسطوں کے بقدر ہی استفادہ کی گنجائش ہےاس سے زیادہ استفادہ کی گنجائش نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق جن کمپنیوں میں میڈٰیکل انشورنس کی مد میں غیر اختیاری طور پرملازم کی تنخواہ  سے مخصوص رقم کی کٹوتی ہوتی ہے، اگرچہ  کمپنی والوں کےلیے ایسا کرنا درست نہیں  اور ان کا یہ عمل قابل اصلاح ہے ،لیکن جن ملازمین سے انشورنس کی مد میں تنخواہ کاٹی گئی ہے ان کےلیے انشورنس کمپنی سے صرف اپنی جمع کردہ قسطوں کے بقدر میڈیکل ریلیف حاصل کرنے کی گنجائش ہےاور اس سے زیادتی چونکہ سود کے زمرےمیں آتاہے لہذااس سے زیادہ ریلیف حاصل کرنے کی گنجائش نہیں ،اوراگرکوئی  ملازم  جمع کردہ قسطوں سے  زیادہ میڈیکل ریلیف  حاصل کرے  تو  اس زیادتی  کے بقدر رقم غریبوں پر خرچ کرے۔

 

عن جابر قال:لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا،و مؤكله،و كاتبه،وشاهديه وقال هم سواء۔(صحيح المسلم،كتاب المساقاة،باب الربا،ج:2،ص:27)

و سمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن أن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه،ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص۔(رد المحتار على الدرالمختار،فصل في البيع،ج:6،ص403)


فتویٰ نمبر : 6346/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں