بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

اجیر کااپنے کام کو کسی دوسرے کےحوالہ کرکے نفع کمانا


سوال

میں دبئی میں ایک کمپنی کے ساتھ کام کرتا ہوں۔ میرا کام یہ ہے کہ کمپنی کا سامان اپنی گاڑی کے ذریعے مخصوص مقام تک پہنچاؤں،اور ہر ٹریپ کے بدلے میں کمپنی سے مقررہ کرایہ وصول کرتا ہوں۔ شروع میں ٹریپس کم ہوتے تھے تو میں خود ہی سامان لے جایا کرتا تھا، لیکن اب ٹریپس زیادہ ہیں، اس لیے اب میں کمپنی سے سامان وصول کرکے وہ سامان کسی دوسری گاڑی والے کے حوالے کر دیتا ہوں، اور اس کے ساتھ کم کرایہ پر بات طے کرتا ہوں۔مثال کے طور پر: کمپنی مجھے فی ٹریپ 200درہم دیتی ہے، جبکہ میں وہی ٹریپ کسی اور ڈرائیور سے 150 درہم میں مکمل کروا لیتا ہوں۔ اس طرح مجھے فی ٹریپ 50درہم کا نفع حاصل ہوتا ہے۔ اس صورت میں مجھے جو نفع ملتا ہے ، یہ میرے لیے حلال ہے یا حرام؟

جواب

واضح رہے کہ جب کسی شخص کو کسی کام کے لیے اجیر مقرر کیا جائے، تو اس اجیر پر لازم ہوتاہے کہ وہ مطلوبہ کام خود انجام دے کسی اور کے حوالہ نہ کرے، کیونکہ بسا اوقات وہ اجیر خود معتمد ہوتا ہےاور وہ جس کے حوالہ کرتا ہے وہ معتمد نہیں ہوتا۔ تاہم اگر مؤجر کی طرف سے یہ اجازت ہو کہ اجیر مطلوبہ کام کسی اورکے ذریعے بھی کروا سکتا ہے، تو ایسی صورت میں اجیر وہ کام کسی اور کےحوالہ کرکے اپنے لیے نفع کما سکتا ہے۔

صورتِ مسؤلہ میں اگر کمپنی  کا صرف آپ پر اعتماد ہو اور وہ آپ کو اجازت نہ دیتی ہو کہ آپ سامان کسی اور کے حوالہ کریں، تو آپ کے لیے سامان کسی دوسرے گاڑی  والےکے حوالہ کرکے نفع کمانا جائز نہیں۔البتہ اگر کمپنی کی طرف سےآپ پر خود سامان لے جانے کی پابندی نہ ہو، بلکہ کمپنی کا مقصد سامان مخصوص مقام تک پہنچانا ہو، چاہے آپ اپنی گاڑی میں لے جائیں یا کسی اور ڈرائیورکے حوالہ کریں ،تو اس صورت میں آپ اسےکسی اور گاڑی والے کے حوالے کرکے نفع کما سکتے ہیں۔

 

وللأجير ‌أن ‌يعمل ‌بنفسه ‌وأجرائه ‌إذا ‌لم ‌يشترط ‌عليه ‌في ‌العقد ‌أن ‌يعمل بيده؛ لأن العقد وقع على العمل،و الإنسان قد يعمل بنفسه وقد يعمل بغيره؛ولأن عمل أجرائه يقع له فيصير كأنه عمل بنفسه،إلا إذا شرط عليه عمله بنفسه؛لأن العقد وقع على عمل من شخص معين،والتعيين مفيد؛لأن العمال متفاوتون في العمل فيتعين فلا يجوز تسليمها من شخص آخر من غير رضا المستأجر.(بدائع الصنائع،كتاب الإجارة،فصل في حكم الإجارة،ج:4،ص:208)

(وإذا شرط عمله بنفسه) بأن يقول له اعمل بنفسك أو بيدك(لا يستعمل غيره إلا الظئر فلها استعمال غيرها) بشرط وغيره خلاصة(وإن أطلق كان له)‌أي ‌للأجير ‌أن ‌يستأجر ‌غيره.(الدرالمختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الإجارة،باب شروط الإجارة،ج:6،ص:18)


فتویٰ نمبر : 3829/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں