بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

وقت سے پہلے اذان دے کر پڑھی گئی نماز کا حکم


سوال

اگر کسی نماز کی اذان وقت کے آغاز سے پہلے دی جائے، مگر نمازمقررہ وقت میں ادا کی جائے، تو کیا ایسی صورت میں نماز درست شمار ہوگی یا نہیں؟

جواب

نماز کے لیے اذان  دینا سنت  ہے، اوراذان اس وقت دی جائے گی جب نماز کا وقت داخل ہوجائے،نماز کا وقت داخل ہونے سے پہلے اذان دینا معتبر نہیں؛  وقت داخل ہونے کے بعد دوبارہ اذان دینی ہوگی،البتہ اگر وقت سے پہلے اذان دے کر وقت کے اندر نماز پڑھی جائے ،تو نماز ادا ہوجائے گی دہرانے کی ضرورت نہ ہوگی ۔

 

وأما بيان وقت الأذان والإقامة فوقتهما ما هو وقت الصلوات المكتوبات، حتى لو أذن قبل دخول الوقت لا يجزئه، ويعيده إذا دخل الوقت في الصلوات كلها في قول أبي حنيفة ومحمد.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الصلاة، فصل بيان وقت الأذان والإقامة ،ج:1،ص:154)


فتویٰ نمبر : 10569/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں