بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بہوكا بيمارسسركی خدمت كرنا


سوال

اگرکوئی شخص اس قدر بیمارہوجائے کہ خود کھانا کھانے، استنجاءاوروضوء وغیرہ کرنے پرقادرنہ ہواوردوسروں کا محتاج ہو جائےاوربیوی بھی کمزوری کی وجہ سےخدمت نہیں کرسکتی، البتہ اس کے بیٹےموجود ہوں،تو بیٹے کی موجودگی میں کیا بہواس مریض سسرکی خدمت (استنجاء وغیرہ) کروا سکتی ہےیا نہیں؟

جواب

 واضح رہےکہ اگر کسی شخص کوایسی معذوری لاحق ہوکہ وہ خود وضوکرنے پرقادرنہ ہوتووہ کسی دوسرے سے مدد لے سکتا ہے، تاہم استنجاء میں مرد کے لئے اپنی بیوی اورعورت کے لئے اپنے شوہرکے علاوہ کسی اورسے مدد لینا جائز نہیں، اگر بیوی موجود ہو تووہ وضو بھی کرائےاوراستنجاء بھی اوراگر بیوی نہ ہوتو بیٹا یا بھائی وغیرہ وضوکرا دیں اوراستنجاء خود جس حد تک کرسکتا ہے کرےاس سے آگے اس کے لئے معاف ہےاسلئے کہ سترکا چھپاناواجب ہے اوربیوی کےعلاوہ کسی کے سامنےناف سے لے کرگھٹنوں تک بدن دکھانا جائز نہیں البتہ شدید ضرورت وحاجت کے موقع پر بقدر ضرورت دیکھنا جائز ہے۔

 صورت مسؤلہ میں اگرواقعی بیوی کمزوری کی وجہ سے خدمت نہیں کرسکتی تواس صورت میں اس سے استنجاء کا حکم ساقط ہوگااوربہو کے لئے ہرگزجائز نہیں کہ وہ سسرکا استنجاء کرائے،البتہ اگر شدید ضرورت وحاجت ہو اورایسا موقع آجائے کہ ستر کھولے بغیرکوئی چارہ نہ ہو تو بیٹوں میں کوئی یہ خدمت کرے بہو ہرگزنہ کرے،نیز بیٹے بھی جہاں تک ہوسکے سترکے مواضع کو نہ دیکھیں ۔

 

يحلّ للرجل أن ينظرمن الرجل الأجنبيّ إلى سائرجسده إلّا ما بين السرّة والركبة إلّا عند الضرورة، فلا بأس أن ينظرالرجل إلى موضع الختان ليختنه و يداويه. (بدائع الصنائع، كتاب الاستحسان، ج:6، ص:497)

الرجل المريض إذا لم يكن له امرأة ولا أمة، وله ابن أو أخ وهولا يقدرعلى الوضوء، فإنّه يوضّئه ابنه، أوأخوه غيرالاستنجاء؛ فإنّه لا يمسّ فرجه. وسقط عنه الاستنجاء. (الفتاوى الهندية، كتاب الطهارة، الباب السابع في النجاسة، الفصل السابع في الاستنجاء، ج:1، ص:105)


فتویٰ نمبر : 6305/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں