بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

قصائی کا سالم پائے لے کر توڑے ہوئےپائے دینا


سوال

کچھ  قصائی عید کے دنوں میں گاہک سے سالم پائےلے کربدلے میں بنے ہوئےیا توڑے ہو ئےپائے دیتے ہیں اوراپنی مزدوری بھی ساتھ لیتےہیں،توکیا یہ معاملہ درست ہے؟ اس میں کوئی ربا تونہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ربا ان چیزوں کے درمیان تبادلے کی صورت میں ہوتا ہےجوایک جنس کے ہوں اورکیلی یا وزنی بھی ہوں، چنانچہ اگردو چیزیں ایک جنس کی ہوں لیکن کیلی یا وزنی نہ ہوں توان کے باہم تبادلے میں کمی بیشی جائز ہےبشرط یہ کہ ایک طرف بھی ادھارنہ ہو۔

آج کل کےعرف میں چونکہ پائےعدد کے حساب سے فروخت کئے جاتے ہیں اس لئےان کے ہم جنس سے تبادلہ کی صورت میں کمی بیشی جائز ہے، لہذا اگر قصائی گاہک سے سالم پائے لے کربدلے میں توڑے یا پکے ہوئے پائے دے تو یہ معاملہ جائزہے، تاہم اس میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ یہ لین دین دونوں جانب سے نقد ہو، کسی ایک طرف سے ادھارنہ ہو۔

 

وهو في الشّرع:عبارةعن فضل مال لا يقابله عوض في معاوضة مال بمال.وهو محرّم في كل مكيل وموزون بيع مع جنسه،وعلته القدر والجنس.ونعني بالقدر الكيل فيما يكال والوزن فيما يوزن. (الفتاوى الهندية، كتاب البيوع، الفصل السادس ‌في ‌تفسير ‌الربا ‌وأحكامه، ج:3، ص:118)

ولو اشترى بلحم الأضحية جرابا لا يجوز، ولو اشترى بلحمها حبوبا جاز، ولو اشترى ‌بلحمها ‌لحما جاز قالوا: والأصحّ في هذا أنّه يجوز بيع المأكول بالمأكول وغير المأكول بغيرالمأكول، ولا يجوز بيع غيرالمأكول بالمأكول، ولا بيع المأكول بغيرالمأكول. (الفتاوى الهندية، كتاب الأضحية، الباب السادس في بيان ما يستحبّ في الأضحية والانتفاع بها، ج:5، ص:347)

‌فجاز ‌الفضل ‌لفقد ‌القدر، وحرم النساء لوجود الجنس...قوله :(فجاز الفضل إلخ) تفريع على جميع ما مر ببيان أنّ وجه جواز الفضل في هذه المذكورات كونها مقدرة شرعا وإن اتّحد الجنس ففقدت إحدى العلتين، فلذا حل الفضل وحرم النساء. ( ردالمحتار مع الدر المختار، كتاب البيوع، باب الربا، ج:7، ص:408)

العادة محكمة يعني أن العادة عامّة كانت أو خاصّة تجعل حكما لإثبات حكم الشّرعي... والعرف والعادة إنما تجعل حكما لإثبات الحكم الشّرعي إذا لم يرد نص في ذالك الحكم المراد إثباته. (درر الحكام، المادة: 36، ج: 1، ص: 44)


فتویٰ نمبر : 3826/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں