بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

رمی سے پہلے قربانی کرنے پر دم


سوال

ہم سات افراد حج کے لیے گئے تھے اور ہم نے ایک شخص کو اپنی طرف سے قربانی کرنے کے لیے پیسے دے دیے تھے۔ 10ذوالحجہ کو ہم میں سے صرف ایک شخص نے جمرۂ عقبہ (رمی) کی، باقی چھ افراد نے رمی نہیں کی تھی کہ اس شخص کی طرف سے اطلاع ملی کہ آپ سب کی طرف سے قربانی کر دی گئی ہے۔اب اس صورت میں ہم پر دم واجب ہوتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ حاجی(متمتع یا قارن) کے لیے 10 ذولحجہ کو تین کاموں (رمی، قربانی اور حلق) میں ترتیب واجب ہے، یعنی سب سے پہلے رمی کرے پھر قربانی کرےاس کے بعد بال کٹوائے، اگر ان  تین کاموں میں ترتیب قائم نہ رہی، مثلاً:رمی سے پہلے قربانی کردی یا حلق کرالیا، یا قربانی سے پہلے حلق کرالیا، تو دم واجب ہوگا۔ نیز قربانی کسی ایسے معتمد شخص یا ادارے سے کروانی چاہیے جن کے متعلق اعتماد ہو کہ وہ مقررہ وقت میں قربانی کرکےاطلاع دے دیں گے۔

لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں 10ذولحجہ کو جن چھ حاجیوں کی طرف سے رمی سے پہلے قربانی کی گئی ہے ان پر دم واجب ہے، اور جس شخص نے رمی کیا تھا  اور اس کے بعد اس کی طرف سے قربانی کی گئی اس پر دم واجب نہیں۔

 

‌وإنما ‌يجب ‌ترتيب ‌الثلاثة ‌الرمي ‌ثم ‌الذبح ‌ثم الحلق، لكن المفرد لا ذبح عليه فيجب عليه الترتيب بين الرمي والحلق فقط. (رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الحج، باب الجنايات في الحج، ج:2، ص:555)

ويبدأ إذا وافى منى برمي جمرة العقبة ثم بالذبح إن كان قارنا أو متمتعا ثم بالحلق لحديث عائشة - رضي الله تعالى عنها - أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «‌إن ‌أول ‌نسكنا ‌في ‌هذا ‌اليوم أن نرمي ثم نذبح ثم نحلق». (المبسوط للسرخسي، كتاب المناسك، باب رمي الجمار، ج:4، ص:64)


فتویٰ نمبر : 10568/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں