بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

غصب کی ہوئی زمین کوخریدنا


سوال

 اگرکوئی شخص کسی دوسرے کی زمین پر قبضہ کر کے اس کو فروخت کررہا ہے، توکیا اس سے وہ جگہ خریدنا جائزہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی دوسرے کی مملوکہ زمین پربلا جوازقبضہ کرنا شرعاً ناجائزاورحرام ہے، رسول اللہ ﷺ نے زمین غصب کرنے پرسخت وعید سنائی ہے؛ ایک حدیث میں فرمایا کہ"جس نے ایک بالشت زمین بھی ظلم سے لی، قیامت کےدن اس کے گلے میں سات زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا"، لہذاایسےقبضے سے شرعاً ملکیت ثابت نہیں ہوتی، اس لیے ایسی زمین کوخریدنا یا بیچنا بھی جائزنہیں، کیونکہ جوچیزفروخت کنندہ کی ملکیت میں نہ ہواس کی بیع باطل ہوتی ہےاوربیع باطل میں اگرچہ مشتری کو قبضہ دیا جائےتوپھربھی اس کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی ۔

لہٰذا صورت مسؤلہ میں کسی بھی شخص کے لیے ناجائز قبضے والی زمین کو خریدنا یا فروخت کرنا جائز نہیں اوراگرخریدی ہوتواسےواپس کرنا اورصدق دل سےتوبہ واستغفارکرنا ضروری ہے تاکہ گناہ کی تلافی ہوسکے۔

 

عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:من أخذ شبراً من الأرض ظلماً، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين. (الصحيح للمسلم، كتاب المساقاة، باب تحريم الظلم، وغصب الأرض، وغيرها، رقم الحديث: 4135)

ومنها أن يكون مملوكا؛ لأن البيع تمليك، فلا ينعقد فيما ليس بمملوك  وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عندالبيع فإن لم يكن لا ينعقد وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة، وهذا بيع ما ليس عنده، ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع ما ليس عند الإنسان، ورخص في السلم. (بدائع الصنائع ، کتاب البيوع، فصل: وأما الذي يرجع إلی المعقود عليه، ج:5، ص:147)

لا يجوزالتصرف في مال غيره بلا إذنه، ولا ولايته. (الدر المختار، كتاب الغصب، ج:1، ص: 618)


فتویٰ نمبر : 3831/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں