بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

کرکٹ ٹورنامنٹ میں ٹیموں کا رقم جمع کرکے جیتنے والی ٹیم کو دینا


سوال

ہم کرکٹ ٹورنامنٹ میں سب ٹیموں سے دو ہزارروپے جمع کرتے ہیں ،آخر میں جو فائنل میچ ہو جائے تو جوٹیم وہ میچ جیتے ہم اس کو وہ پیسے انعام میں دیتے ہیں تو کیا ہمارا یہ کام جائز ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت کی نظر میں جوےکی کوئی بھی شکل ہو، وہ ناجائزہے، چاہے وہ کھیل کی صورت میں ہو، یا کسی اور صورت میں،بہر حال ناجائز اور حرام ہے۔لہذاصورتِ مسئولہ میں جب تمام ٹیموں سے وصول کردہ رقم جیتنےوالی ٹیم کو دی جاتی ہے تو یہ "قمار"  یعنی جوا کے حکم میں داخل ہونے کی بنا  پر  ناجائز ہے ۔ اس لئے  اس طریقےسے ٹورنامنٹ کے انعقاد سےاجتناب لازم ہے۔

 

قال الله تعالٰی:﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (المائدہ:90)

‌قوله ‌وحرم ‌شرط ‌الجعل ‌من ‌الجانبين) ‌بأن ‌يقول إن سبق فرسك، فلك علي كذا وإن سبق فرسي، فلي عليك كذا زيلعي.(ردالمحتار علی الدر المختار،کتاب الخنثی،مسائل شتی،ج:6،ص:752)

قال رحمه الله (‌وحرم ‌شرط ‌الجعل ‌من ‌الجانبين ‌لا ‌من ‌أحد ‌الجانبين) ‌لما ‌روى ‌ابن ‌عمر رضي الله عنهما «أن النبي صلى الله عليه وسلم سبق بالخيل وراهن»، ومعنى شرط الجعل من الجانبين أن يقول إن سبق فرسك فلك علي كذا، وإن سبق فرسي، فلي عليك كذا وهو قمار فلا يجوز.( البحر الرائق شرح كنز الدقائق، کتاب الخنثی،مسائل شتی،ج:6،ص:227)


فتویٰ نمبر : 6313/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں