بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بہن کا اپنا حصہ میراث بھائی کو بخشنے کے بعد دوبارہ مطالبہ کرنا


سوال

ایک شخص وفات ہوچکاہے اس کے ورثاءمیں ایک بیٹا،چار بیٹیاں اور ایک بیوہ تھی ،والد کی  وفات کے بعد بھائی نے بہنوں سے کہا کی تم اپنا حصہ مجھے بخش دو،بہنوں نے اس کو اپنا حصہ بخش دیا تو بھائی نے ہرایک  بہن کو ایک دنبہ اور ایک چادر دے دیا ،اب ان  بہنوں میں سے ایک بہن باپ کے میراث میں اپنا حصہ مانگتی ہےاورکہتی  ہے کہ میں نے دنبہ اور چادر پر صلح نہیں کیا ہے،اب اس کا میراث میں کوئی حصہ بنتی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مرحوم کے ترکہ کی تقسیم سے پہلے کسی وارث کا اپنے شرعی حصہ سے بلا عوض دست بردار ہوجانا یا دیگر ورثاء کو بخش دیناشرعاً معتبر نہیں ہے، البتہ ترکہ تقسیم ہوجائےاور  ہر  وارث اپنے حصے پر قبضہ کرلے ،اس   کے بعد کوئی وارث  اپنا حصہ کسی  کو دینا چاہے  یا کسی کے حق میں دست بردار ہوجائے تو یہ شرعاً جائز اور  معتبر ہے۔ اسی طرح کوئی وارث ترکہ میں سے کوئی چیز لے کر  ترکہ میں سے اپنے باقی حصہ سے دست بردار ہوجائے تو یہ بھی درست ہے، اسے اصطلاح میں " تخارج" کہتے ہیں۔

صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ بہن  ترکہ کی تقسیم سے پہلےبغیر کسی عوض کے  اپنے حصہ سے دست بردار ہوئی تھی، تو اس کا دست بردار ہونا شرعاً معتبر نہیں ہے،لہذابھائی پر لازم ہے کہ  وہ  اس کو اس کا شرعی حصہ مکمل ادا کرے،البتہ اگر اس نے اپنی رضامندی سے کوئی عوض مثلاً دنبہ وغیرہ لے کر  اپناحصہ بھائی کو بخش دیاتھا تو پھر اس کا بعد میں مطالبہ کرنا درست نہیں۔

 

الإرث ‌جبري ‌لا ‌يسقط ‌بالإسقاط. (ردالمحتار علی الدرالمختار،كتاب الدعوی،باب التحالف،ج11ص678)

لو قال الوارث: ‌تركت ‌حقي ‌لم ‌يبطل ‌حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك. (شرح الأشباه والنظائر،ما يقبل الإسقاط من الحقوق وما لايقبله،ج3ص52)

وإن أخرجت الورثة أحدهم عن عرضٍ أو عقارٍ بمالٍ، أو عن ذهبٍ بفضّةٍ، أو بالعكس....... ‌قال ‌الأتقاني ‌معنى ‌التخارج أن يصالح بعض الورثة من نصيبه على شيء فيخرج من البين.(تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق،کتاب الصلح،باب الصلح في الدین،ج:5،ص:508)


فتویٰ نمبر : 3734/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں