بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

بیوہ کابھائی کے گھر میں عدت وفات گزارنا


سوال

ایک عورت کا شوہر فوت ہو چکا ہے۔ وہ اپنے بچوں کے ساتھ اکیلی گھر میں رہتی ہے اور ایک اسکول میں ملازمت بھی کرتی ہے۔ کیا وہ عورت عدت اپنے بھائی کے گھر گزار سکتی ہے یا نہیں؟نیز عدت کے دوران وہ اسکول میں اپنی ڈیوٹی پر جا سکتی ہے یا نہیں ؟

جواب

جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے، اس پر چار ماہ دس دن عدت گزارنا لازم ہے اور عدت اس گھر میں گزارے گی جس میں وہ شوہر کی زندگی میں اس کےساتھ رہتی تھی،بشرط یہ کہ وہاں پر  رہائش کی صورت میں  کوئی خطرہ نہ ہو، مثلاً: جان ،مال یا عزت کا خطرہ  نہ ہو ، بصورت دیگراس کے لیے کسی اور جگہ منتقل ہونےکی گنجائش ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر خاتون کو خاوند کے گھر میں عدت  گزارنے میں واقعی کوئی خطرہ ہو تواس کے لیے اپنے بھائی کے گھر عدت گزارنے کی گنجائش ہے، نیز اگر یہ عورت اپنی ملازمت سے رخصت لے سکتی ہو تو رخصت لےلےاور عدت گزار دے،البتہ اگر چھٹی لینا ممکن نہ ہو اوراس عورت کےپاس آمدن کا کوئی اور ذریعہ بھی نہ ہو، نیزملازمت ترک کرنے کی صورت میں تنگ دستی اور معاشی پریشانی کا غالب گمان ہو ،تو پھرملازمت کے اوقات کی رعایت رکھ کر ملازمت کی جگہ پرجاسکتی ہے۔

 

(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ‌ولا ‌يخرجان ‌منه (إلا أن تخرج أو ينهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء ) ونحو ذلك من الضرورات.(ردالمحتار على الدرالمختار، ‌‌باب العدة، ‌‌فصل في الحداد،ج:٣،ص:٥٣٦)

(قوله ومعتدة الموت تخرج يوما وبعض الليل) لتكتسب لأجل قيام المعيشة؛ لأنه لا نفقة لها حتى لو كان عندها كفايتها صارت كالمطلقة فلا يحل لها أن تخرج لزيارة ولا لغيرها ليلا ولا نهارا.

والحاصل أن مدار الحل كون خروجها بسبب قيام شغل المعيشة فيتقدر بقدره فمتى انقضت حاجتها لا يحل لها بعد ذلك صرف الزمان خارج بيتها كذا في فتح القدير۔(البحرالرائق شرح كنزالدقائق،باب العدة،فصل في الإحداد،ج:4،ص:166)


فتویٰ نمبر : 7207/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں