بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

بیماری کی حالت میں فوت شدہ نمازوں کا حکم


سوال

ایک آدمی مسلسل تین مہینے بیمار رہا، پھر اسی بیماری میں وفات پا گیا۔ اس سے تین مہینوں کی نمازیں فوت ہوئیں، تو کیا ان نمازوں کا فدیہ ورثاء  پر لازم ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ بیماری کے دوران بھی مریض کو نمازوں کی ادائیگی کا اہتمام ضروری ہے۔ جس طرح ممکن ہو، کھڑے ہو کر، بیٹھ کر، یا لیٹ کر اشارے سے نماز ادا کرنا ضروری ہے۔ اگر نماز رہ جائے تو اس کی قضا لازم ہوگی۔ البتہ  اگر کسی مریض کی حالت ایک دن سے زیادہ ایسی رہی کہ وہ سر کے اشارے سے بھی نماز ادا کرنے کے قابل نہ رہا تو جب تک یہی کیفیت رہے گی، ان دنوں کی نمازیں اس سے ساقط ہو  گی۔ اگر وہ مریض اسی حالت میں انتقال کر جائے تو ان دنوں کی نمازوں کا فدیہ بھی نہیں دیا جائے گا۔

لہٰذا، صورتِ مسئلہ میں اگر کوئی شخص تین مہینے بیمار رہا، اور ان تین مہینوں کی نمازیں فوت ہو چکی ہوں، اور وہ اسی بیماری کی حالت میں وفات پا گیا ہو، تو اگر وہ اس دوران اشارے کے ساتھ بھی نماز پڑھنے پر قادر نہ تھا، تو  ایسی صورت میں  فدیہ لازم نہیں۔لیکن اگر وہ اشارے کے ساتھ نماز پڑھنے پر قادر تھا، توپھر اگر اس دوران اس  نے فدیہ دینے کی وصیت کی تھی، تو پھر ورثا پر میت کے ترکہ کے ایک تہائی (ثلث) حصے سے فدیہ دینا لازم ہوگا۔اور اگر اس  نے وصیت نہ کی ہو تو ورثا پر فدیہ دینا واجب نہیں البتہ اگر ورثا تبرعاً اور احساناً فدیہ دینا چاہیں تو  دے سکتے ہیں۔

 

(‌ولو ‌مات ‌وعليه ‌صلوات ‌فائتة ‌وأوصى ‌بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة۔(قوله وعليه صلوات فائتة إلخ) أي بأن كان يقدر على أدائها ولو بالإيماء، فيلزمه الإيصاء بها وإلا فلا يلزمه وإن قلت، بأن كانت دون ست صلوات، لقوله عليه الصلاة والسلام «فإن لم يستطع فالله أحق بقبول العذر منه» وكذا حكم الصوم في رمضان إن أفطر فيه المسافر والمريض وماتا قبل الإقامة والصحة۔۔۔ يعطي عنه وليه: أي من له ولاية التصرف في ماله بوصاية أو وراثة ‌فيلزمه ‌ذلك ‌من ‌الثلث إن أوصى، وإلا فلا يلزم الولي ذلك لأنها عبادة فلا بد فيها من الاختيار، فإذا لم يوص فات الشرط فيسقط في حق أحكام الدنيا للتعذر۔(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الصلاة ،باب قضاء الفوائت،ج:2،ص:72)

اذا مات المريض ولم يقدر على الصلاة بالإيماء لا يلزمه الإيصاء بها وإن قلت وكذا الصوم إن أفطر فيه المسافر والمريض ومانا قبل الإقامة والصحة وعليه الوصية بما قدر عليه وبقي بذمته فيخرج عنه وليه من ثلث ما ترك لصوم كل يوم ولصلاة كل وقت حتى الوتر نصف صاع من بر أو قيمته وإن لم يوص وتبرع عنه وليه جاز۔(مراقي الفلاح،كتاب الصلاة ،باب صلاة المريض،ص:170)


فتویٰ نمبر : 10563/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں