بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

کوشش کرنے کے باوجود ناراض شخص کا راضی نہ ہونا


سوال

کچھ دنوں پہلے میرے اور میرے دوست کے درمیان کسی بات پر ناراضگی پیدا ہوئی ،اب میں اس کو راضی کرکے باتیں کرنے کی کوشش کرتا ہوں اوراس کےساتھ تعلقات بھی بحال کرنا چاہتاہوں لیکن وہ مجھ سے بالکل باتیں نہیں کرتا اورکہتاہے کہ میرے ساتھ  بالکل تعلقات ختم کرو،اب تین دنوں سے زیادہ ہوچکے  ہیں اور میں مسلسل اس کےساتھ باتیں کرنے کی کوشش کرتاہوں لیکن وہ نہ میری بات مانتاہے اورنہ میرے ساتھ بات چیت کرتا ہے کیا شرعی لحاظ سے میں قطع تعلقی کی وعید میں آتاہوں یا نہیں؟

جواب

 جاننا چاہیے کہ کسی مسلمان کےلیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کےساتھ تین دن سے زائد قطع تعلقی کرے،بلکہ  چاہیے کہ تین دن گزرنے سے پہلے پہلےاس پر سلام کرےاوراس کے ساتھ باتیں شروع کرے لیکن اگر دوسرا ساتھی  تین بار سلام کرنے کے باوجود بھی سلام کا جواب نہ دے تووہی قطع تعلقی کی وعید میں آئے گا جبکہ سلام کرنے والا اس وعید سے بچ جائے گا۔

صورت مسؤلہ کی روسے جب سائل باربار اپنے دوست سے باتیں کرنے کی کوشش کرتاہےاوراس کےساتھ تعلقات استوارکرنا چاہتاہے لیکن اس کا دوست اس کےساتھ باتیں نہیں کرتا تواس صورت میں سائل قطع تعلقی کی وعید میں نہیں آتا،تاہم پھربھی اپنی وسعت کے بقدر تعلقات بحال کرنے کی کوشش کرتےرہنااچھے اخلاق کا ثبوت ہے۔

 

قال الله تعالى:  لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَاۚ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَعَلَيۡهَا مَا ٱكۡتَسَبَتۡۗ(البقرة:286)

قال شهاب الدين محمود الألوسي: لا يكلف نفسا - من النفوس إلا ما تطيق وإلا ما هو دون ذلك كما في سائر ما كلفنا به من الصلاة والصيام مثلا فإنه كلفنا خمس صلوات والطاقة تسع ستا وزيادة. (روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني،ج:2،ص:67)

حدثنا محمد بن المثنى، نا محمد بن خالد بن عثمة ، نا عبد الله بن المنيب يعني المدني قال: أخبرني هشام بن عروة ، عن عروة ، عن عائشة ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا يكون لمسلم أن يهجر مسلما فوق ثلاثة، فإذا لقيه سلم عليه ثلاث مرار ‌كل ‌ذلك ‌لا ‌يرد ‌عليه، ‌فقد ‌باء ‌بإثمه.»(سنن أبي داود،باب في هجرة الرجل أخاه،ج:4،ص:431،رقم الحديث:4931)


فتویٰ نمبر : 6319/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں