بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
تالاب میں اتر کر وضو کےلیے لوٹے بھرنا
سوال
ہم ایک جگہ مسافر تھےہمارے ساتھ قریب ایک چھوٹا سا تالاب تھا اس میں ہمارے ایک ساتھی نے اتر کر ہمارے لیے لوٹے بھر دئیے،ہم نے اس پانی سے وضو کرکے نماز ادا کی، کیا اس صورت میں ہماری نماز درست ہے یا ہم اس کی قضاء کریں؟
جواب
جاننا چاہیے کہ پانی میں جب نجاست گر جائے تو اگرپانی کم ہوتو اس سے وضو جائز نہیں اوراگر زیادہ ہوتواگراس کے اوصاف رنگ ،ذائقہ اور بو میں کوئی ایک متاثر ہواہوتوپھراس سے بھی وضو جائز نہیں ،اور اگر کوئی وصف تبدیل نہ ہو تو وضو جائز ہے ۔
صورت مسئولہ میں بھرے تالاب کے اندراگر اترنے والاخود پاک تھا اوراس پر ظاہری نجاست بھی نہ تھی تو پانی پاک شمار ہوگا لہذا اس سے وضو کرکے نماز پڑھنا جائزہے لیکن اگر اترنے والا خود حالت جنابت میں تھا یا اس کے ظاہر پر نجاست لگی تھی جو پانی میں لگ گئی توایسی صورت میں اس پانی سے وضو نہیں ہوگا اورنتیجتاً ان کی نمازیں ادا نہ ہوئیں لہذاان نمازوں کی قضاء لازم ہے۔
(وبتغير أحد أوصافه) من لون أو طعم أو ريح (ينجس) الكثير ولو جاريا إجماعا، أما القليل فينجس وإن لم يتغير خلافا لمالك.(ردالمحتار على الدر المختار،باب المياه،ج:1،ص:185)
(ومسألة البئر جحط)... ولأبي حنيفة أن الماء نجس بإسقاط الفرض عن البعض بأول الملاقاة، والرجل نجس لبقاء الحدث في بقية الأعضاء أو لنجاسة الماء المستعمل على اختلاف الأقاويل وعنه أن الرجل طاهر؛ لأن الماء لا يعطى له حكم الاستعمال قبل الانفصال وهو أوفق الروايات عنه. (قوله وهو أوفق الروايات) أي للقياس وقال الكافي أي أسهل وفي شرح المجمع وهذه الرواية صحيحة؛ لأن الماء ما دام مترددا على الأعضاء فالضرورة داعية إلى الحكم بطهارته وبعد الانفصال لا ضرورة.(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق،كتاب الطهارة،أقسام الماء،ج:1،ص:25)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں