بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

موبائل فروخت کرنے پر فیصد کے حساب سے اجرت


سوال

میں ایک شخص کے ساتھ موبائل کی دکان میں کام کرتا ہوں۔ وہ زیادہ تر نئے موبائل خریدتا ہے، کبھی کبھار استعمال شدہ موبائل بھی خرید لیتا ہے۔ میری اجرت اس طرح مقرر کی گئی ہے کہ میں جتنے نئے موبائل فروخت کرتا ہوں، ان کے منافع کا 25 فیصد، اور جتنے استعمال شدہ موبائل فروخت کرتا ہوں، ان کے منافع کا 35 فیصد مجھے بطور اجرت دیا جاتا ہے۔اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرے لیے اس طرح اجرت لینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر یہ طریقہ جائز نہیں ہے تو اس کی شرعی طور پر جائز متبادل صورت کیا ہو سکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی شخص کسی چیز کی فروخت کے لیے معاوضے پر وکیل مقرر کرے، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ معاوضہ متعین اور معلوم ہو، کیونکہ اجرت معلوم نہ ہونے کی صورت میں معاملہ فاسد ہوجاتا ہے۔                    

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے لئے  نئےموبائل فروخت کرنے پر 25 فیصد اور استعمال شدہ موبائل فروخت کرنے پر 35 فیصد اجرت طے کرنا، چونکہ مجہول اجرت ہے کیونکہ  معلوم نہیں کہ موبائل فروخت ہوگا یا نہیں، اور حقیقی منافع بھی مالک کو  ہی معلوم ہوں گے ، اس لئے سائل کے لئے فیصد بھی  مجہول ہوگی اس  وجہ سے اس طرح اجرت طے کرنا  جائز نہیں۔اور  اس کے متبادل جائز صورت  یہ ہو سکتی ہے کہ سائل کے لیے ایک خاص مقدار میں مہینے ،ہفتے یا دن کے حساب سے  تنخواہ مقرر کی جائے۔

 

والأصل في شرط العلم بالأجرة قول النبي صلى الله عليه وسلم «من استأجر أجيرا فليعلمه أجره» والعلم بالأجرة لا يحصل إلا بالإشارة والتعيين أو بالبيان وجملة الكلام فيه۔(بدائع الصنائع ،کتاب الإجارة،فصل في شرائط ركن الإجارة،ج:4،ص:194)

‌دفع ‌ثوبا إليه وقال بعه بعشرة فما زاد فهو بيني وبينك قال أبو يوسف - رحمه الله تعالى - إن باعه بعشرة أو لم يبعه فلا أجر له وإن تعب له في ذلك، ولو باعه باثني عشر أو أكثر فله أجر مثل عمله وعليه الفتوى۔(الفتاوى الهندية، کتاب الإجارة،الباب السادس عشر في مسائل الشيوع في الإجارة،ج:4،ص:451)


فتویٰ نمبر : 3824/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں